اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کو فوری تبدیل کرنے کا مطالبہ

حیدرآباد ۔7 ۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی جانب سے گزشتہ تین ماہ کے دوران اہم درگاہوں اور بارگاہوں کے متولیوں اور سجادگان کے خلاف کی گئی کارروائیوں پر مسلم جماعتوں و تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ درگاہ حضرت شاہ خاموشؒ کے احاطہ میں آج ایک کل جماعتی اجلاس منعقد ہوا جس میں بلا لحاظ مسلک و مکتب مختلف جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کو فوری تبدیل کردے۔ جناب عبدالرحیم قریشی صدر تعمیر ملت نے اجلاس کی صدارت کی۔ علماء مشائخ ، دانشور کے علاوہ شیعہ اور مہدوی طبقے کے قائدین نے بھی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے وقف بورڈ کی جانب سے حالیہ عرصہ میں کی گئی کارروائیوں کی مذمت کی۔ اجلاس میں اسپیشل آفیسر کے خلاف احتجاجی لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔

مولانا قبول پاشاہ قادری شطاری ، مولانا قاضی اعظم علی صوفی، مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ امیر امارت ملت اسلامیہ ، مولانا مسعود حسین مجتہدی ، مولانا ابو طالب ، مولانا سید شاہ راجو حسینی ثانی ، مولانا محمود پاشاہ شطاری مولانا اولیاء حسینی مرتضی پاشاہ ، مولانا سعید قادری ، جناب اعجاز محی الدین وسیم صدر انتظامی کمیٹی مسجد عزیزیہ مہدی پٹنم، مولانا مفتی صادق محی الدین اور دوسروں نے شرکت کی ۔ جناب رحیم قریشی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ اسپیشل آفیسر کا تقرر کس حد تک قانونی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مانگ کی کہ وہ اسپیشل آفیسر کو سیما آندھرا حکومت کیلئے الاٹ کرے اور انہیں تلنگانہ میں خدمات انجام دینے کا موقع نہ دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل آفیسر کا تعلق سیما آندھرا سے ہے اور وہ مخصوص ذہن کے ساتھ درگاہوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سجادگان اور متولیان کو بدنام کرنے کی سازش کے پس پردہ بعض ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار ہیں۔ رحیم قریشی نے کہا کہ وقف بورڈ کی کارروائیوں کو صرف سجادگان کا مسئلہ تصور نہ کیا جائے بلکہ یہ ملت اسلامیہ کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قابضین کی فہرست میں حکومت سرفہرست ہے لیکن اسپیشل آفیسر کو اراضیات حاصل کرنے کی کوئی فکر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2 جون کو ریاست کی تقسیم کے ساتھ ہی شیخ محمد اقبال کو آندھراپردیش حکومت کے تفویض کیا جانا چاہئے ۔ مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے تجویز پیش کی کہ اسپیشل آفیسر کی کارروائیوں کا قانونی اور شرعی طور پر موثر جواب دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل آفیسر کی کارروائیاں غیر قانونی ہے اور وہ کردار کشی کی مہم پر ہیں۔ مفتی خلیل احمد نے کہا کہ اگر وقف بورڈ میں اصلاحات چاہتے ہیں تو اسپیشل آفیسر کو چاہئے کہ تمام علماء و مشائخ کو اعتماد میں لیکر کام کریں۔ مولانا قبول پاشاہ شطاری نے الزام عائد کیا کہ حکومت اوقافی جائیدادوں کو تباہ کرنا چاہتی ہے ا

ور اس مقصد کیلئے بعض اعلیٰ کار میدان میں چھوڑ دیئے گئے۔ انہوں نے بلا لحاظ مسلک و مشرب اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ اور کہا کہ اسپیشل آفیسر کی تبدیلی کیلئے لائحہ عمل اختیار کیا جانا چاہئے ۔ قاضی اعظم علی صوفی نے کہا کہ سجادگان اور متولیان کی کردار کشی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ متولی کے تقرر کا اختیار اسپیشل آفیسر کو نہیں ، لہذا وہ معطل کرنے کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ مولانا نے کہا کہ صرف سنی اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ کئی غیر سنی ادارے ، تنظیمیں اور مساجد ایسی ہیں جہاں سنگین بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں لیکن اسپیشل آفیسر ان کے خلاف کارراوئی کرنے تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ اسپیشل آفیسر کے تقرر سے قبل وقف بورڈ میں سنگین بے قاعدگیاں ہوئیں ۔ کیا اس کیلئے اسپیشل آفیسر کو ذمہ دار قرار دیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ متولی پبلک سرونٹ نہیں ہوسکتا ، لہذا وقف قانون میں ترمیم کے سلسلہ میں صدر جمہوریہ سے نمائندگی کی جانی چاہئے ۔ مفتی صادق محی الدین فہیم نے تمام مسلم تنظیموں کی جانب سے مشترکہ لائحہ عمل کی تجویز پیش کی ۔ جناب اعجاز محی الدین وسیم نے کہا کہ قوم کو کمزور کرنے کیلئے اکابرین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے عوام کے اعتماد کو متزلزل کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ تین ماہ میں 9 اکابرین کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اسپیشل آفیسر کے خلاف 2 روزہ دھرنے کی تجویز پیش کی۔ مولانا مسعود حسین مجتہدی ، مولانا سید ابو طالب ، اور سعید قادری نے بھی مخاطب کیا۔