اسٹیٹ بینک کے برطرف درجہ چہارم ملازمین کو بحال کرنے کا مطالبہ

ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل آوری پر زور، ایس بی آئی پیانل ایمپلائز اسوسی ایشن کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 8 فروری (سیاست نیوز) اسٹیٹ بینک آف انڈیا پیانل ایمپلائز (کلاس فورتھ) اسوسی ایشن نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیاکہ وہ فوری طور پر سال 2014 ء میں ہائی کورٹ ڈیویژن بنچ کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی مختلف برانچس سے وابستہ سال 1997 ء میں بینک انتظامیہ کی جانب سے برطرف شدہ کلاس فورتھ پیانل ایمپلائیز کو بحال کرتے ہوئے انھیں دوبارہ ڈیوٹی پر مامور کرنے سے متعلق دیئے گئے فیصلہ پر عمل آوری کرکے ان کے ساتھ انصاف کیا جائے بصورت دیگر اسوسی ایشن کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار آج یہاں صدر اسٹیٹ بینک آف انڈیا پیانل ایمپلائیز (کلاس فورتھ) اسوسی ایشن مسٹر کے سوریہ نارائنا اور جنرل سکریٹری اسوسی ایشن مسٹر پی انیل کمار نے منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اُنھوں نے بینک انتظامیہ پر الزام عائد کیاکہ وہ ریاست آندھراپردیش میں واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی مختلف برانچس میں گزشتہ 20 تا 25 سال سے عارضی کلاس فورتھ ایمپلائیز کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے زائداز 3 ہزار ایمپلائیز کو کسی بھی قسم کی اطلاع یا نوٹس دیئے بغیر اچانک 31 مارچ 1997 ء کو بینک انتظامیہ کی جانب سے معطل کردیئے جانے کے احکامات جاری کردیئے گئے جس پر اُنھوں نے انھیں معطل کئے جانے سے لے کر تاہم مختلف عدالتوں سے رجوع ہوتے ہوئے انھیں انصاف دلانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے تھے۔ اسی دوران آخرکار 2014 ء میں ہائی کورٹ بنچ نے ان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے انتظامیہ کو ہدایت جاری کی کہ وہ فوری طور پر ریاست آندھراپردیش میں واقع تمام اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی برانچس میں کنٹراکٹ اور آؤٹ سورسنگ کے تحت کام کرنے والوں کو فوری برخاست کرتے ہوئے بجائے ان کی 1997 ء میں برطرف شدہ ہائیکورٹ سے رجوع ہونے والے پیانل ایمپلائیز کو ڈیوٹی پر بحال کرے لیکن اس کے باوجود ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات کے 90 دن گزرنے کے باوجود بینک انتظامیہ ہائی کورٹ کے احکامات اور فیصلہ کا احترام کئے بغیر اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت کرنے کو تیار نہیں ہے جس کے نتیجہ میں توہین عدالت ہوگی اور بینک انتظامیہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کی پرواہ کئے بغیر کنٹراکٹ اور آؤٹ سورسنگ کے تحت بیرونی افراد کے تقررات کرتے ہوئے ان سے کام لیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ جس وقت انھیں برطرف کیا گیا تھا اس وقت متحدہ ریاست آندھراپردیش میں صرف 805 برانچس تھے جن کی آج زائداز 1400 برانچس ایس بی آئی کی ہوگئی ہیں اس کے باوجود انتظامیہ انھیں درپیش مسائل پر کوئی دھیان نہیں دے رہا ہے جس کے نتیجہ میں ہم انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس موقع پر پیانل اسوسی ایشن قائدین مسرز ایم سوریہ نارائنا، ایل وی انجنیلو، ایس وشوا موہن راؤ، ٹی اوما شنکر راؤ، ایم شیشگیر راؤ، ڈی راجن راؤ کے علاوہ دیگر قائدین موجود تھے۔