اپوزیشن کا زبردست شور و غل ، فرقہ پرست پارٹی ملک کو تقسیم کرنے کے درپہ
نئی دہلی ۔ 2 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن ارکان نے آج بی جے پی کی قیادت والی چھتیس گڑھ حکومت کو پنے ملازمین کو آر ایس ا یس اور اس کے دیگر کیمپس میں شامل ہونے کی اجازت دینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس نوعیت کے انتہائی خطرناک اقدام سے اسٹاف اور افسران کی غیر جانبدارانہ طرز زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ راجیہ سبھا میں وقفہ صفر کے دوران کانگریس اور سماج وادی پارٹی ارکان نے اس موضوع کو اٹھایا جس کے بعد ایوان میں حکمراں جماعت کے ارکان نے اپوزیشن کی تقاریر کے دوران رخنہ اندازی کی کوشش کی ۔ دریں اثناء ایس پی کے نریش اگروال نے کہا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت نے حال ہی میں ایک ڈپارٹمنٹل حکم جاری کیا ہے جہاں اسٹاف اور افسران کو آر ایس ایس کیمپس میں شمولیت کی اجازت دی گئی ہے جو ایک ایسی بدنام زمانہ فرقہ پرست تنظیم ہے جو ملک کو مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا مذموم ارادہ رکھتی ہے ۔ مسٹر اگروال نے کہا کہ یہ ایک خطرناک قسم کا حکمنامہ ہے جس سے افسران کی غیر جانبدارانہ سرگرمیاں فرقہ پرستی کا شکار ہوسکتی ہیں جبکہ عام طور پر سرکاری عہدیداران ہمیشہ غیر جانبداری سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ دوسری جانب کانگریس کے پرمود تیواری نے آر ایس ایس کا نام لئے بغیر کہا کہ کچھ فرقہ پرست تنظیموں پر قبل ازیں حکومت نے امتناع بھی عائد کیا ہے ۔ اس موقع پر انہوں نے سردار پٹیل کا بھی حوالہ دیا اور کہاکہ آر ایس ایس کے نظریات ہی مہاتما گاندھی کے قتل کی وجہ بنے تھے اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آر ایس ایس ہی وہ تنظیم ہے جس نے برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی جنگ میں برطانوی حکومت کا ساتھ دیا تھا ۔ اسپیکرس اپنی تقاریر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے، اس دوران ٹریژری بنچس کی جانب سے ان کی تقاریر میں رخنہ اندازی کی کوششیں متواتر جاری رہیں۔ نائب صدرنشین پی جے کورین نے کہا کہ وہ اپنے ریکارڈس کا جائزہ لیتے ہوئے قابل اعتراض مواد حذف کردیں گے ۔ حکمراں جماعت کی جانب سے مسلسل رخنہ اندازیوں کے دوران کانگریس کے آنند شرما نے کہا کہ صدرنشین کی جانب سے اجازت دیئے جانے کے بعد کسی بھی پارٹی رکن کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ اپوزیشن ارکان کی مسلسل رخنہ اندازی اور شور و غل سے ایوان کا ماحول بگڑتا ہے ۔ ارکان کے حقوق کو قبول کرنا چاہئے اور اس میں رخنہ اندازی کی حوصلہ افزائی نہیں کی جانی چاہئے۔