حکومت کے انکار پر کارروائی چلنے نہیں دی جائے گی۔ قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر کا انتباہ
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت کسانوں کے مسائل پر مباحث سے اتفاق نہیں کرتی ہے تو کانگریس 30 اپریل کو منعقد ہونے والی اسمبلی و کونسل کی کارروائی چلنے نہیں دے گی ۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر کانگریس کے رکن اسمبلی جی چناریڈی بھی موجود تھے ۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ اسمبلی و کونسل کے اجلاس میں جانا ریڈی اور وہ ( محمد علی شبیر ) نے ریاست میں کسانوں کے تازہ مسائل پر توجہ دلائی ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے بتایا کہ حصول اراضیات قانون 2013 میں 28 نومبر 2016 کو اسمبلی و کونسل میں ترمیمی بل منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کیا تھا ۔ لیکن مرکز نے اس ترمیمی بل میں چند نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے سفارش کی ہے کہ تازہ ترمیمات کی جائے ۔ مرکز کی سفارش پر 30 اپریل کو اسمبلی و کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کیا جارہا ہے تاکہ مرکز کے سفارشات کی روشنی میں تازہ ترمیمات کی جاسکے ۔ ان ترمیمات سے ریاست میں آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات میں تیزی پیدا ہوگی ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ مرکز کے قانون میں ترمیمات کرنے کا ریاست کو کوئی اختیار نہیں ہے ۔ ہمارے اعتراضات کو چیف منسٹر نے نظر انداز کردیا تھا ۔ کانگریس پارٹی ترمیمات کی اسی وقت تائید کرے گی جب حکومت ریاست کے کسانوں کے مسائل پر توجہ دے گی ۔ تلنگانہ میں مرچی ۔ بلدی ۔ اور دالوں کے کسان پریشان ہیں ۔ ریاست کے کئی مقامات پر مرچ کی فصل کو اقل ترین قیمت وصول نہ ہونے پر کسانوں نے بطور احتجاج نذر آتش کردیا ہے ۔ کھمم میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے ۔ حکومت دونوں ایوانوں میں ترمیمی بل پیش کرنے سے قبل کسانوں کے مسائل پر مباحث کریں ۔ کانگریس پارٹی مسائل کو پیش کرے گی اگر حکومت کی جانب سے اجازت نہیں دی گئی تو کانگریس پارٹی ایوانوں کی کارروائی چلنے نہیں دے گی ۔ جو بھی حالت پیش آئیں گے حکومت اس کی ذمہ دار ہوگی ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ کئی مسائل کا شکار ہے ۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ۔ کئی عوامی مسائل ہیں ۔ جس پر ایوانوں میں مباحث کرنا ضروری ہے لیکن حکومت عوامی مسائل سے راہ فرار اختیار کررہی ہے تاہم کانگریس پارٹی اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرے گی اور عوامی مسائل کو موضوع بحث بنائے گی ۔۔