حیدرآباد۔/13جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست کے پہلے چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد چندر شیکھر راؤ نے پہلی مرتبہ آج تلنگانہ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیا۔ گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے تقریباً تین گھنٹے تک تقریر کی جو تلگو کے ساتھ اردو زبان پر محیط تھی۔
l چیف منسٹر نے تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اردو زبان کا یہ جملہ دہرایا ’ جس کا کھایا اُس کا گایا ‘۔ کے سی آر نے کہا کہ اس جملہ کے عین مطابق وہ تحریک میں تعاون کرنے والی تمام جماعتوں اور شخصیتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
l اپوزیشن کی جانب سے گورنر کے خطبہ کو کے سی آر کی تقریر اور ٹی آر ایس کا انتخابی منشور قرار دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ عوام نے انتخابات میں پارٹی کی جن پالیسیوں کو پسند کرتے ہوئے اقتدار عطاء کیا ہے اسے گورنر کے خطبہ کا حصہ ہونا چاہیئے۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ گورنر کا خطبہ یقینا کے سی آر کی تقریر کی طرح ہی ہوگا اور ایسا ہونا غیرجمہوری یا غیر دستوری نہیں ہے۔ انتخابات میں ہم نے عوام سے جو باتیں کہیں اور عوام کو جو وعدے پسند آئے ہیں انھیں کو گورنر کے خطبہ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
l چندر شیکھر راؤ نے ایوان کو یقین دلایا کہ جدوجہد کے بعد علحدہ ریاست کے حصول اور پھر تشکیل حکومت سے ان میں کسی بھی طرح کے فخر، غرور اور تکبر کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر تلنگانہ کی تعمیر نو کیلئے کام کریں۔ ہمیں اقتدار ملنے پر کوئی غرور اور تکبر نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ آئندہ چار پانچ دن میں حکومت بعض اہم فیصلے کرے گی۔ چندر شیکھر راؤ نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ کم از کم چار برسوں تک سیاست سے بالا تر ہوکر حکومت سے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوںتک سوائے مجلس بلدیہ حیدرآباد اور چند بلدیات کے کوئی انتخابات نہیں ہیں لہذا ہمیں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر نئی ریاست کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہیئے۔اگر ہم نے صحیح کارکردگی نہیں کی تو آپ کو تنقید کا حق حاصل ہے لیکن وہ انتخابات سے قبل اور چار سال کی تکمیل کے بعد ہونی چاہیئے۔ ٹی آر ایس بھی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوامی عدالت سے رجوع ہوگی۔
l حیدرآباد میں ٹریفک کے سنگین مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کے سی آر نے ریمارک کیا کہ حیدرآباد کی شادیوں میں شرکت کسی سزا سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادی کی تقریب میں بمشکل دس تا پندرہ منٹ گذرتے ہیں لیکن ٹریفک کے باعث آمدورفت میں تین گھنٹے آدمی سڑک پر ہوتا ہے۔ انہوں نے شہر میں ٹریفک کے آسان بہاؤ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کا تیقن دیا اور کہا کہ میٹرو ریل کے آغاز کے بعد کسی قدر راحت مل سکتی ہے۔
l چیف مسٹر نے میٹرو ریل پراجکٹ اسکیم پر عمل آوری کے دوران حیدرآباد کی تمام تاریخی عمارتوں کے تحفظ کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں رہ کر انہوں نے سلطان بازار علاقہ کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ کیلئے مہم چلائی تھی۔ اب جبکہ وہ حکومت میں ہیں لہذا میٹرو ریل حکام کو پابند کریں گے کہ وہ ڈیزائن میں تبدیلی کریں لیکن تاریخی عمارتوں کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی قدیم عمارت کا بھی تحفظ کیا جائے گا اور اس علاقہ سے ٹرین کے انڈر گراؤنڈ گذرنے کا راستہ بنایا جائے گا۔
l حیدرآباد میں امن و ضبط کی صورتحال اور جرائم پر قابو پانے کیلئے حکومت پولیس عہدیداروں کو لندن اور نیویارک روانہ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ وہ وہاں سی سی کیمروں کے ذریعہ شہر کی نگرانی کے انتظامات کا جائزہ لیں۔ اسی طرز پر حیدرآباد میں بھی سی سی کیمروں کے ذریعہ شہر کی نگرانی کی جائے گی، اس سے جرائم کی شرح میں کمی ہوسکتی ہے۔
l چیف منسٹر نے دکنی زبان اور بریانی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ حیدرآباد قطب شاہی اور آصفیہ دور سے ہی سیکولرازم کا مرکز رہا ہے۔ مختلف مذاہب اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے حیدرآباد کو اپنا مسکن بنالیا۔ حیدرآباد کی دکنی اردو اور بریانی کی مثال ملک کے کسی اور حصہ میں نہیں مل سکتی۔ حیدرآبادی فصیح اردو میں غیر معمولی بلاغت اور مٹھاس ہے جس سے ہر کوئی متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں مقیم کایستھ طبقہ نے حیدرآباد کے اہم پکوانوں کو اختیار کرلیا ہے اور کسی مسلم گھرانے کی طرح کایستھ گھرانے میں بھی لذیذ بریانی تیار کی جاتی ہے۔
l چیف منسٹر نے بتایا کہ پرانے شہر کے ایک رکن اسمبلی کی سیکورٹی میں پہلے ہی اضافہ کردیا گیا ہے اور ضرورت پڑنے پر حکومت مزید سیکورٹی فراہم کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی جماعت کی جانب سے سیکورٹی میں اضافہ کی درخواست کی گئی تھی۔