اسمبلی سیشنوں سے شاہی مسجد باغ عامہ کے مصلیوں کو مشکلات

حیدرآباد ۔ 10 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ایک ایسے وقت جب کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش اسمبلیوں کا بجٹ اجلاس جاری ہے ۔ دونوں ریاستوں کی پولیس نے اسمبلی کے باہر اور اندرونی حصہ میں سخت ترین صیانتی بندوبست کیے ہیں ۔ جس سے کسی رکن اسمبلی ، وزراء کو پریشانی نہیں ہورہی ہے لیکن ہمیشہ کی طرح شاہی مسجد باغ عامہ کے مصلیوں کو سیکوریٹی انتظامات کے نتیجہ میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ حالانکہ اسمبلی اور شاہی مسجد کے باب الداخلوں کے درمیان کافی فاصلہ ہے ۔ سیاست کو اس بات کی شکایات وصول ہوئیں ہیں کہ دونوں اسمبلیوں کے اجلاسوں کے پیش نظر جو سیکوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں اس کے باعث مصلی بڑی مشکل سے مسجد میں داخل ہورہے ہیں ۔ 1846 میں تعمیر کردہ اس مسجد میں ہر نماز میں 300 تا 500 مصلی نماز ادا کرتے ہیں جب کہ جمعہ کے موقع پر مصلیوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں بہادر اپنے دیگر ارکان خاندان کے ہمراہ اکثر نماز جمعہ شاہی مسجد باغ عامہ میں ہی ادا کرتے ۔ شاہی مسجد باغ عامہ میں ملک و بیرون ملک کے مسلم سیاح اور دورہ کرنے والی ممتاز شخصیتیں بھی نمازوں کی ادائیگی کے لیے پہنچ جاتی ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ جمعہ کو سیکوریٹی انتظامات کے باعث مصلیوں کو اصل باب الداخلہ کی بجائے دوسرے باب الداخلہ سے باہر جانے کے لیے کہا جانے والا ہے یعنی اسمبلی سے قریب باغ عامہ کا جو باب الداخلہ ہے اس کی بجائے دوسرے باب الداخلہ سے مصلیوں کو باہر نکلنے کی اجازت دی جائے گی ۔۔