محکمہ آبرسانی کی لاپرواہی اور منتخبہ نمائندوں کی خاموشی سے عوام کو مشکلات
حیدرآباد۔19جون(سیاست نیوز) حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ کے علاقہ جنگم میٹ‘اپو گوڑہ ‘ چھاؤنی اور درگاہ شریف قادری چمن کے اطراف کے علاقوں میں آلودہ پانی کی شکایت معمول بن چکی ہے اور متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود بھی آلودہ پانی کی سربراہی کے مسئلہ کو حل کرنے میں محکمہ آبرسانی کی ناکامی پر منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی مقامی عوام کیلئے تکلیف کا باعث بنی ہوئی ہے۔ حکومت کی جانب سے ریاست کے شہری علاقوں میں پانی کے مسائل کو دور کرتے ہوئے ہر گھر کو صاف و شفاف پینے کا پانی سربراہ کرنے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں لیکن پرانے شہر کے بعض علاقوں بالخصوص جنگم میٹ اور چھاؤنی کے علاقوں میں محکمہ آبرسانی کی جانب سے جو پانی سربراہ کیا جا رہاہے وہ پینے کیلئے تو دور کسی بھی استعمال کے قابل نہیں ہوتا اور اس سلسلہ میں متعدد مرتبہ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کو متوجہ کروایا گیا اور منتخبہ عوامی نمائندوں کو بھی اس بات کی شکایت کی گئی لیکن اب تک کوئی حل نہیں نکالا جا سکا ہے۔ مقامی عوام کے مطابق محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کی جانب سے چند ماہ قبل عارضی مرمتی کاموں کے ذریعہ اس بات کی کوشش کی گئی تھی کہ پینے کے پانی کی لائن میں ملنے والی آلودہ پانی کی لائن کو الگ کرتے ہوئے مسئلہ کا حل کیا جائے لیکن محکمہ کی جانب سے کی گئی یہ کوششیں رائیگاں ثابت ہوئی اور عہدیداروں نے اس صورتحال سے منتخبہ نمائندوں کو واقف کروا دیاہے ۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کی جانب سے اب شکایت کرنے والے عوام کو بھی یہ کہا جانے لگا ہے کہ اس مسئلہ سے کارپوریٹر اور رکن اسمبلی کو واقف کروادیا گیا ہے ۔ عوام کا کہناہے کہ مسئلہ سے واقفیت مسئلہ کا حل نہیں ہے کیونکہ اطراف کی گنجان آبادی میں سلم بستیاں بھی آباد ہیں اور ان بستیوں میں رہنے والے پینے کیلئے پانی خرید کر استعمال کرنے کے متحمل نہیں ہیں ۔ بتایاجاتاہے کہ علاقہ میں پانی کی مکمل پائپ لائن کے علاوہ ڈرینیج لائن کی تبدیلی درکار ہے لیکن درکار ترقیاتی فنڈس کی عدم موجودگی کے سبب ان کاموں کا آغاز کرنے سے اجتناب کیا جا رہاہے ۔مقامی عوام اس بات کی بھی شکایت کر رہے ہیں کہ پینے کے پانی کی سربراہی کے سلسلہ میں محکمہ کی غفلت عوامی صحت سے کھلواڑ کے مترادف ہے اور بعض علاقو ںمیں آلودہ پانی انتہائی کم پریشر سے سربراہ کیا جا رہاہے ۔