حیدرآباد۔18جنوری(سیاست نیوز) سینئر کانگریسی قائد وکنونیر اے آئی سی سی ٹاسک فورس ایم ششی دھر ریڈی نے ریاست کے تنظیم جدید بل 2013کے سیکشن 26سے استفادہ کرتے ہوئے تلنگانہ اور آندھرا کے چیف منسٹر س سے دونوں ریاستوں میںنئی اسمبلی حد بندی کی عاجلانہ تشکیل عمل میںلانے کا مطالبہ کیا۔ آج یہاں حیدرآبا د کلب ہاوز میںمنعقد ہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ششی دھر ریڈی نے کہاکہ آندھرا اور تلنگانہ میںنئی اسمبلی حلقوں کے اضافے کے لئے حکومت ہند کی بھی توجہہ درکار ہے۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ چیف منسٹر تلنگانہ اور آندھرا کی جانب سے اس ضمن میںمسلسل بیانات تو دئے جارہے ہیں تاہم عملی اقدامات ندارد ہیں ۔ انہوںنے مزیدکہاکہ تلنگانہ میں34اور آندھرا میں50اسمبلی حلقہ جات کے اضافے کے دعوے پیش کئے جارہے ہیں لیکن ان دعوئوں پر عملی اقدامات ناگزیر ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کی تنظیم جدید بل میںواضح طور پر اس بات کا اشارہ دیا گیا ہے ریاستوں کی تقسیم کے بعد آندھرا اور تلنگانہ میںاسمبلی حلقہ جات کا اضافہ ضروری ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر پارلیمانی حلقہ ملکاجگیری اور حیدرآباد کی مثال پیش کی اور کہاکہ ملکاجگیری میںرائے دہندوں کی تعداد تیس لاکھ کے قریب ہے جبکہ حیدرآباد میںاٹھارہ لاکھ انہوں نے کہاکہ اتنی بڑی آبادی والے حلقوں سے اسمبلی حلقہ جات میںاضافہ کرنا کوئی مشکل کام نہیںہے ۔ انہوں نے آسان طریقے سے اس عمل کو پورا کرنے کا دعویٰ بھی پیش کیا۔