اسمبلی انتخابی شیڈول کے بارے میں کے سی آر فکرمند

الیکشن کمیشن پر نظریں، تاخیر کی صورت میں اپوزیشن کو فائدہ، اندرون ایک ہفتہ فیصلہ کا امکان
حیدرآباد ۔ 19۔ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کے شیڈول کے سلسلہ میں سیاسی جماعتوں کی نظریں الیکشن کمیشن پر ٹکی ہوئی ہیں۔ خاص طور پر برسر اقتدار ٹی آر ایس نومبر یا ڈسمبر میں انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ 6 ستمبر کو اسمبلی کی تحلیل کے بعد سے کارگزار چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ انتخابی حکمت عملی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ وہ نومبر یا ڈسمبر میں انتخابات کو یقینی تصور کرتے ہوئے تیاریوں کا آغاز کرچکے ہیں لیکن فہرست رائے دہندگان کو عدم قطعیت کے سبب الیکشن کمیشن فوری طور پر تاریخوں کے اعلان سے گریز کر رہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ دنوں حیدرآباد کا دورہ کرنے والی ٹیم سے رپورٹ طلب کی ہے جس کی قیادت ڈپٹی الیکشن کمشنر نے کی تھی ۔ الیکشن کمیشن سے کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں نے نمائندگی کرتے ہوئے شکایت کی تھی کہ فہرست رائے دہندگان میں 30 لاکھ سے زائد نام حذف کردیئے گئے ہیں۔ حقیقی رائے دہندوں کے ناموں کی شمولیت تک انتخابی شیڈول کا اعلان نہ کیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے بھی وضاحت کی کہ وہ فہرست رائے دہندگان میں مکمل درستگی تک انتخابی شیڈول کے بارے میں فیصلہ نہیں کرے گا۔ ان حالات میں ٹی آر ایس کیلئے فوری انتخابات کی امیدوں پر پانی پھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اپنے خصوصی قاصدوں کے ذریعہ الیکشن کمیشن کو اس بات کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ چھتیس گڑھ ، مدھیہ پردیش اور راجستھان اسمبلیوں کے انتخابات سے قبل یا پھر ان کے ساتھ تلنگانہ کے انتخابی شیڈول کا اعلان کردیا جائے۔ جنوری میں انتخابات کی صورت میں ٹی آر ایس کے امکانات متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ( سلسلہ صفحہ 8 )