مرسل : ابوزہیر
اسلام : خدا و رسول خدا کے احکام کی فرماںبرداری کا نام اسلام ہے۔
ارکان اسلام ۔ اسلام کے رکن (یعنی وہ امور جن پر اسلام کی بنیاد قائم ہے ) پانچ ہیں
(۱) توحید و رسالت کا اقرار ( یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ خدا ایک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں )۔ (۲) نماز پڑھنا ( روزانہ پانچ مرتبہ فرض ہے )۔(۳) رمضان کے روزے رکھنا ۔ (۴) زکوٰۃ دینا ( صاحب نصاب کے پاس بقدر نصاب مال جمع رہے تو سال گزر نے پر مقررہ مقدار مستحقین کو دینا فرض ہے ) ۔ (۵) حج کرنا (بشرط قدرت عمر بھر میں ایک مرتبہ فرض ہے )۔
احکام اسلام ۔ اسلام کے احکام جو بندوںکے اعمال و افعال سے متعلق ہیں یہ ہیں:
(۱) فرض وہ ہے جو دلیل قطعی سے ثابت ہو ۔ اس کا منکر کافر ہے اور بلا عذر ترک کرنے والا فاسق و مستحق عذاب شدید ۔
(۲) واجب وہ ہے جو دلیل ظنی سے ثابت ہو ۔ اس کا منکر کافر نہیں لیکن انکارکرنے والا نیز بلا عذر چھوڑنے والا فاسق اور مستحق عذاب ہے ۔
(۳) سنت وہ مبارک فعل ہے جس کو رسول کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کیا ہو ۔ اس کا کرنے والا ثواب پائے گا اور بلا عذر چھوڑنے اور ترک کی عادت کرنے والا مستحق عتاب و گنہگار ہے ۔
(۴) مستحب وہ ہے جس کے کرنے پر ثواب ہو لیکن نہ کرنے پر کوئی عذاب نہیں ۔ اس کو نفل بھی کہتے ہیں ۔
(۵) حلال وہ ہے جس کا کرنا دلیل قطعی سے درست و جائز ہو ۔
(۶) حرام وہ ہے جس کا کرنا دلیل قطعی سے ممنوع و ناجائز ہو ۔ اس کو حلال جاننے والا کافر اور مرتکب فاسق و مستحق عذاب شدید ہے ۔
(۷) مکروہ وہ ہے جس کی ممانعت دلیل ظنی سے ثابت ہو ۔
(۸) مباح وہ ہے جس کا کرنا نہ کرنا دونوں برابر ہو یعنی کرنے میں ثواب نہیں اور نہ کرنے میں عذاب نہیں ۔
دین ۔ایمان و اسلام دونوں کے مجموعہ کا نام دین ہے ۔
(تنبیہ) یہاں تک عقائد صحیحہ ( مع متعلقات ) کا بیان تھا جن پر قائم رہنے اور ان کو حرز جان بنانے کی ضرورت ہے ۔ اب عقائد باطلہ کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے مسلمانوں کو بچنا اور دور رہنا نہایت ضروری ہے ۔ (نصاب اہل خدمات شرعیہ، حصہ اول)