حیدرآباد ۔ 7 ۔ جنوری : ( پریس نوٹ ) : اسلامی خطاطی کی یہ نمائش نئی نسل کو اردو اور عربی سے واقف کرانے میں اہم رول ادا کررہی ہے روزنامہ سیاست کے اس اقدام سے نوجوانوں میں اردو زبان سے ذوق اور دلچسپی پیدا ہورہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار جناب محمد ظہیر نے سالار جنگ میوزیم میں جاری نمائش اسلامی خطاطی کی کتاب الرائے میں کیا جو ادارہ سیاست ، قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران انجمن خوشنویسان ایران کے اشتراک سے منعقد کی گئی ہے ۔ نمائش کو دیکھنے مختلف مدارس ، جامعات اور خواتین کے گروپس پہنچ رہے ہیں اور ہندوستانی اور ایرانی خوشنویسوں کے شاہکار نمونوں سے استفادہ کررہے ہیں ۔ اس نمائش کو ایرانی خوشنویس آقائی احمد خوش حساب ، آقائی مجید شریفیان اور آقائی سعید یزدان مہر اور ہندوستانی خوشنویس جناب محمد نعیم صابری ، جناب محمد عبداللطیف ، جناب ناصر الدین وقار ، جناب موسیٰ ید اللہی ، جناب ایم اے فہیم ، حافظہ محترمہ مبینہ بیگم ، جناب رضی الدین اقبال اور کشیدہ کاری کے فنکار نصیر سلطان کے فنی شاہکاروں سے آراستہ کیا گیا ہے ۔ مولوی محمد رحیم الدین انصاری معتمد دارالعلوم حیدرآباد رقمطراز ہیں کہ الحمدﷲ حضور اکرم اور اسمائے حسنیٰ کو مختلف طرز تحریر میں دیکھنے کا موقع ملا ۔ بے حد مسرت ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے خوشنویس اور فنان پیدا کیے ہیں کہ بے اختیار شعر زبان پر آیا ۔۔
جہاں کب رہا خالی اہل ہنر سے
کہ گلشن میں رعنائیاں اور بھی ہیں
اللہ تعالیٰ اس نمائش میں حصہ لینے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ جھارکھنڈ جمشید پور سے تشریف لائے سید عبدالاحد رقمطراز ہیں کہ نمائش نے ان کے دلوں کو چھولیا اللہ رب العزت منتظمین کی عمر دراز کرے ۔ لکھنو سے تشریف لائے مشہود الحسن ، ضیا الحسن ، محمد دانش اور محمود الحسن رقمطراز ہیں کہ نمائش کی زیارت نصیب ہوئی قلبی سرور پہنچا ان کو میں قلمبند نہیں کرسکتا ۔ محترمہ آمنہ فاطمہ رقمطراز ہیں کہ نمائش میں رکھی خطاطی کی وصلیاں معلومات میں اضافہ کرتی ہیں اور دل بار بار اسے دیکھنا چاہتا ہے ۔ محترمہ میمونہ آفرین بیان کرتی ہیں کہ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ عربی خطاطی کے نادر ونایاب نمونے دیکھنے کا موقع ملا ۔ عربی فارسی اور اردو کے یہ وصلیاں خطاطی کا عجوبہ ہیں اور معلومات میں اضافہ کرتے ہیں مہدی مسلک کے عالم دین مولوی ابوریحان سید مطیع اللہ ذاکر منوری رقم طراز ہیں کہ میلاد النبیؐ کے موقع پر منعقدہ یہ نمائش قابل مبارکباد ہے ۔ خوشنویسوں نے اپنے فن کا جو مظاہرہ کیا ہے ۔ وہ قابل دید ہے ۔ بالخصوص جناب سید موسیٰ یداللہی کے نمونے نادر و نایاب ہیں ۔ ایسی نمائش کو ہر ضلع اور ہر شہر میں انعقاد عمل میں لانا چاہئے ۔ انسان دنیا سے گذر جاتا ہے لیکن اس کے یہ کارنامے دنیا میں باقی رہ جاتے ہیں ۔ ایرانی خطاط احمد خوش حساب ، سعید یزداں مہر اور مجید شریفیاں ، نعیم صابری اور لطیف فاروقی کے پینٹنگز قابل دید ہیں ۔ جناب تشریف اللہی رقمطراز ہیں کہ خطاطوں کے یہ شاہکار دیکھ کر دل عش عش کرنے لگا ۔ اللہ سے دعا ہے کہ سیاست والوں کے ساتھ ساتھ سید موسیٰ صاحب کو بھی اجر عظیم عطا کرے ۔ دہلی سے تشریف لائے ابرار الحسن رقمطراز ہیں کہ پہلی بار یہ احساس ہوا کہ اسلامک کلچر زندہ ہے نمائش واقعی قابل دید ہے جس نے دیدار نہیں کیا یقیناً افسوس کرے گا۔ مرزا بشیر علی شیرازی ، سید لطیف حیدرآبادی ، انجم ، شاہانہ خاتون وغیرہ نے نمائش کو تاریخ کا ایک اہم باب قرار دیا اور اس میں توسیع کا مطالبہ بھی کیا ۔۔