’’اسلاموفوبیا‘‘ کا کوئی جواز نہیں۔ اسلامک اسٹڈیز کی اہمیت میں اضافہ

اُردو یونیورسٹی میں قومی سمینار کا افتتاح،ماہرین کا خطاب، سری لنکا کے مہلوکین کو خراج
حیدرآباد، 24؍ اپریل (پریس نوٹ) معاصر اسلام اور مسلمانوں کی دانستہ طور پر شر انگیزی کے ساتھ بگاڑی گئی شبیہ کی بنیاد پر ’’اسلامو فوبیا‘‘ (اسلام کے تعلق سے خوف کی نفسیات) کا کوئی جواز نہیں ہے۔ مسلمان اس کرۂ ارض پر صدیوں سے پر امن طور پر رہ رہے ہیں۔ اسلام اس وقت دنیا کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔ اس تناظر میں اسلامک اسٹڈیز کے مضمون کی اہمیت و افادیت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ ماہر اسلامیات، پروفیسر عبدالعلی، سابق صدر نشین، شعبۂ اسلامک اسٹڈیز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز اور ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ قومی سمینار ’’اسلامک اسٹڈیز: تصور، صورتِ حال اور مستقبل‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے صدارت کی۔پروفیسر عبدالعلی نے اسلامک اسٹڈیز کے بحیثیت مضمون ’آغاز و ارتقاء‘، ہندوستان میں مطالعات اسلامی کی شروعات و موجودہ صورتحال، اسلامک اسٹڈیز میں تحقیق و تدریس کے نظر انداز کردہ شعبوں اور اس کے مستقبل کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ انہوں نے اسلامک اسٹڈیز کو ایک ایسا مضمون قرار دیا جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے مطالعہ پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا شبلی نعمانی، مولانا آزاد ، مولانا سید سلیمان ندوی و دیگر علماء نے اسلام کی نہ صرف قابل فہم اور مکمل تصویر پیش کرنے کی کوشش کی بلکہ اس کی تجزیاتی طریقوں سے تحقیق بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ عہد وسطیٰ کے مسلمانوں نے تاریخ، جغرافیہ، ریاضی اور طب جیسے میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے صدارتی تقریر میں کہا کہ نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے حالیہ دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں آج کے سمینار کے موضوع کی اہمیت و افادیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ سری لنکا میں گذشتہ اتوار کو جو کچھ ہوااس پر انہیں بہت افسوس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن میں برائی کا بدلہ بہترین بھلائی سے دینے کا حکم ہے۔ لیکن کچھ لوگ اسلام کا نام لے کر اس طرح کے کام کرتے ہیں جس میں سبھی کا نقصان ہے۔ اگر لوگ قرآن جو کہ فرض ہے کے احکامات جیسے لوگوں کی مدد کرنا، اولاد آدم کااکرام چاہے وہ کسی مذہب کا ہو پر عمل کریں گے تو یقینی طور پر اس میں سبھی کی بھلائی ہوگی۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر پیکم ٹی سمویل ، ڈائرکٹر ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ ،حیدر آباد نے پرزنٹیشن میں انسٹیٹیوٹ کی تاریخ کا احاطہ کیا ۔ یہ ادارہ ابتداء میں عیسائیت کی تبلیغ کا کام کرتا تھا، مگر اب اس کی توجہ بین مذہبی مذاکرات اور قیام امن کی کاوشوں پر ہے۔ مہمانِ اعزازی پروفیسر اقتدار محمد خان نے کہا کہ اسلام دشمن تحریکیں بھی کئی مرتبہ اسلام کے لیے معاون ثابت ہوتی رہی ہیں۔ اس کی مثال ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ ہے۔ ابتداء میں سری لنکا میں دہشت گردانہ حملے کے مہلوکین کی یاد میں شرکاء نے دو منٹ خاموشی منائی۔ اس موقع پر اسلامک اسٹڈیز کا دیواری پرچہ ’’اسلامی مطالعات‘‘ کے نویں شمارے کا اجرا عمل میں آیا۔ تین کتابوں ڈاکٹر سیمیول ٹی پیکم کی دو اور ریسرچ اسکالر مجتبیٰ فاروق کی ایک کتاب کی رسم اجرا بھی انجام دی گئی۔ ابتداء میں عاطف عمران کی قرأت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر شکیل احمد، اسسٹنٹ پروفیسر نے کارروائی چلائی۔ ڈاکٹر عرفان احمد ، کو آرڈینیٹر سمینار نے شکریہ ادا کیا۔
اصلاحی اجتماع
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اپریل : ( راست ) : مدرسۃ الحسنات للبنات مراد نگر کے تحت خواتین کا اصلاحی اجتماع 27 اپریل 2 بجے دن مدرستہ الحسنات للبنات نزد مسجد قطب شاہی ( چھوٹی مسجد ) مراد نگر منعقد ہوگا ۔ مولانا احمد عبید الرحمن اطہر خطاب کرینگے ۔۔