زراعت ، آبپاشی اور سیکوریٹی جیسے اہم شعبوں میں اشتراکیت کے لیے کوشاں
حیدرآباد۔/9ڈسمبر، ( سیاست نیوز) اسرائیل کی نظریں اب آندھرا پردیش اور تلنگانہ پر مرکوز ہوچکی ہیں اور دونوں ریاستوں کے ترقیاتی اقدامات میں تعاون کے نام پر اسرائیل دونوں ریاستوں میں داخلہ کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اسرائیلی سفیر برائے ہند ڈانیل کارمون جو ان دنوں حیدرآباد کے دورہ پر ہیں آج چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کی اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ اسرائیلی سفیر نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ سے بھی ملاقات کا وقت مانگا ہے۔ اسرائیلی سفیر نے گورنر ای ایس ایل نرسمہن اور ڈائرکٹر جنرل پولیس آندھرا پردیش جے وی راموڈو اور ڈائرکٹر جنرل پولیس تلنگانہ انوراگ شرما سے بھی ملاقات کی۔گورنر سے ملاقات کے دوران آندھرا پردیش، تلنگانہ کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات میں بہتری کی امید وابستہ کی گئی۔ اسرائیلی سفیر نے کہا کہ ان کا ملک زراعت، پانی اور داخلی سلامتی جیسے موضوعات پر باہمی تعاون میں اضافہ میں دلچسپی رکھتا ہے۔ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کے دوران جوائنٹ ورکنگ گروپس کی تشکیل پر غور کیا گیا۔ اسرائیلی سفیر اور چیف منسٹر آندھرا پردیش نے طئے شدہ موضوعات پر بہتر تال میل کی امید ظاہر کی۔ اسرائیلی سفیر نے چندرا بابو نائیڈو کو اپریل 2015ء میں اسرائیل میں منعقد ہونے والی اگری ٹیک ۔ اسرائیل 19ویں بین الاقوامی نمائش میں شرکت کی دعوت دی۔ اگریکلچرل ٹکنالوجی پر مبنی یہ بین الاقوامی کانفرنس 28تا30اپریل اسرائیل میں منعقد ہوگی۔ اسرائیلی سفیر کے ہمراہ وفد میں ڈپٹی چیف مشن یاہیل وائیلان، کمرشیل اٹاچی یونی بین زاکین، زرعی شعبہ کے اٹاچی ڈان الوف اور ڈپٹی ڈیفنس اٹاچی نتن ریوین موجود تھے۔بتایا جاتا ہے کہ زراعت، آبپاشی، سیکورٹی اور دیگر اہم شعبوں میں اسرائیل دونوں ریاستوں کے ساتھ اشتراک کے حق میں ہے۔ ڈانیل کارمون نے آج منتخب صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ترقیاتی ایجنڈہ کے ساتھ دونوں حکومتوں کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے۔ این چندرا بابو نائیڈو کی حالیہ دورہ دہلی کے موقع پر اسرائیلی سفیر سے ملاقات ہوچکی ہے اور اہم شعبہ جات میں باہمی تعاون کے معاہدوں کو قطعیت دینے کیلئے اسرائیلی سفیر حیدرآباد کے دورہ پر ہیں۔ انہوں نے کل اور آج مختلف محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھرا پردیش حکومت کے ساتھ بعض شعبوں میں یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے گئے جن میں سیکورٹی، آبپاشی اور زراعت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں جس وقت چندرا بابو نائیڈو چیف منسٹر تھے انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب کپم میں اسرائیلی اشتراک سے آبپاشی کی اسکیم شروع کی تھی۔ ڈرپ اریگیشن کے ذریعہ بہتر فصلوں کی افزائش کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ یہ تجربہ سابق میں آندھرا پردیش میں کامیاب رہا۔ انہوں نے بتایا کہ زراعت اور دیگر شعبہ جات کے اسرائیلی ماہرین کے ساتھ آندھرا پردیش کے عہدیداروں سے مشاورت ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آندھرا پردیش کی ترقی میں اسرائیل اہم رول ادا کرے گا۔ اسرائیلی سفیر نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی ترقی میں بھی اسرائیل ممکنہ تعاون کیلئے تیار ہے اور اس کا انحصار حکومت تلنگانہ پر ہوگا کہ وہ کن شعبوں میں اشتراک کی خواہاں ہے۔ اسرائیلی سفیر کے مطابق گجرات، ہریانہ، مہاراشٹرا، پنجاب اور دیگر ریاستوں میں اسرائیلی ٹکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ اسرائیل نے بنگلور اور ممبئی میں اپنے کونسلیٹ قائم کئے ہیں تاہم حیدرآباد میں کونسلیٹ کے قیام کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ حیدرآباد کے دورہ کے موقع پر اسرائیلی سفیر اور ان کے رفقاء نے دونوں ریاستوں میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں اور ان کی تہذیبوں کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل عوام کے درمیان بہتر روابط کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ آندھرا پردیش کے عہدیداروں نے اسرائیلی سفیر کو حکومت کی جانب سے یروشلم جانے والے عیسائیوں کو دی جارہی سبسیڈی کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ اسرائیلی سفیر نے کہا کہ مرکز میں نریندر مودی حکومت کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے رشتوں میں مزید استحکام کا امکان ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے حالیہ دورہ اسرائیل کا حوالہ دیا اور کہا کہ مختلف شعبوں میں دونوں ممالک نے باہمی تعاون سے اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی رہنما شمعون پیریز کے دورہ ہندوستان کے موقع پر نریندر مودی سے ان کی ملاقات کامیاب رہی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے مسئلہ پر دونوں ممالک کے نظریات میں یکسانیت ہے۔ دونوں ملکوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے تال میل میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔