اسرائیل میں عام انتخابات ‘لاکھوں افراد کی رائے دہی

یروشلم 17 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) لاکھوں اسرائیلیوں نے آج عام انتخابات میں اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ اسے پریشان حال وزیراعظم نتن یاہو کے چھ سالہ دوراقتدار پر استصوابِ عامہ بھی سمجھا جارہا ہے۔ نتن یاہو چوتھی میعاد کیلئے جان توڑ کوشش کررہے ہیں اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے پرجوش انتخابی مہم کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ اسرائیل میں آج عام انتخابات منعقد کئے گئے جبکہ اس سے قبل یہاں زبردست انتخابی مہمات چلائی گئی تھیں جو دراصل وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کے چھ سالہ دور حکومت کیلئے ایک ریفرنڈم ثابت ہوگا جو چوتھی ریکارڈ میعاد کیلئے ایک بار پھر انتخابی میدان میں ہیں۔

رائے دہندے صبح 7 بجے سے ہی پولنگ بوتھس پہنچ کر قطار بناچکے تھے ۔ پارلیمانی انتخابات پارلیمنٹ کی تمام 120 نشستوں کیلئے منعقد کئے جاتے ہیں جبکہ موجودہ پارلیمنٹ میں نتن یاہو لیکوڈ پارٹی کی 18 نشستیں ہیں۔ اسرائیل میں تقریبا 5.88 ملین رائے دہندہ رائے دہی کے اہل ہیں جہاں تقریباً 10,000 پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچ کر وہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے ۔ 65 سالہ نتن یاہو جن کی عرفیت بی بی ہے‘ نے دائیں بازو کے ووٹرس کو راغب کرنے یہ تک کہہ دیا کہ اگر وہ ایکبار پھر اقتدار پر فائز ہوئے تو فلسطینی ریاست کے قیام کا خواب صرف خواب ہی رہے گا۔عالمی سطح پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ کی یکسوئی کی کوششیں ہنوز جاری ہیں۔