اسرائیل میں ایران پر حملے کی صلاحیت نہیں : جمی کارٹر

نیویارک ، 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے ایران کے خلاف کسی بھی صورت میں فوجی کارروائی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران ایٹم بم بھی تیار کر لے تب بھی امریکہ کیلئے ایران پر حملہ قطعی غیر مناسب ہے۔ امریکی ٹیلی ویژن کو دیئے گئے انٹرویو میں جمی کارٹر نے کہا کہ اسرائیل کے پاس ایران پر حملے کی فوجی صلاحیت نہیں ہے۔ اسرائیل زیادہ سے زیادہ 1200 میل کے فاصلے تک حملہ کر سکتا ہے۔ موجودہ فوجی صلاحیت کے ساتھ اگر تل ابیب، تہران کے خلاف فوجی کارروائی کرتا ہے تو یہ خود اسرائیل کیلئے خطرہ ہے کیونکہ اتنی دور کارروائی اسرائیلی فوج کے بس کی بات نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں واقع ملک پر حملہ یا فوجیں اتارنے کی صلاحیت صرف امریکہ کے پاس ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ واشنگٹن، تہران پر چڑھائی کر دے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر تہران نیوکلیر بم بنا کر دنیا کیلئے خطرہ بن جائے تب امریکہ کو کیا کرنا چاہئے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’’کچھ نہیں کیونکہ جوہری ہتھیار بنا کر بھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اسرائیل کے پاس 300 سے زائد ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں بلکہ ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کسی کو اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کی درست تعداد معلوم ہی نہیں۔ جب اسرائیل کے پاس اتنے زیادہ غیر اعلانیہ ہتھیار ہیں اور اس سے کسی کو خطرہ نہیں تو ایران سے کس کو خطرہ ہو گا‘‘۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہر ایرانی یہ جانتا ہے کہ اگر ان کا ملک ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کرے گا تو یہ ایران کی تباہی کا موجب ہو گا۔ لہٰذا کوئی ایرانی اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈالے گا۔ خیال رہے کہ 89 سالہ جمی کارٹر امریکہ کے 39 ویں صدر رہے ہیں۔ وہ 1977ء سے 1981ء کے دوران امریکہ کے صدر رہے۔ 2002 ء میں ان کی امن مساعی کے اعتراف میں انھیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔