قاہرہ ؍ غزہ 12 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل اور فلسطینی مذاکرات کار قاہرہ میں غزہ بحران کا طویل مدتی حل تلاش کرنے کیلئے مذاکرات کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ جبکہ 72 گھنٹوں کی جنگ بندی پر عمل آوری جاری ہے۔ اس کی وجہ سے غزہ میں آج دوسرے دن معمول کی سرگرمیاں کسی قدر بحال دیکھی گئیں اور لوگ اپنے مکانات کو واپس ہورہے ہیں جو کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ حماس کے زیراقتدار غزہ کا یہ علاقہ اسرائیلی بمباری سے بُری طرح تباہ و تاراج ہوگیا۔ فلسطین کی خبررساں ایجنسی معان نے موسیٰ ابو مرذوق کے حوالہ سے کہاکہ ہم مشکل ترین مذاکرات سے گزر رہے ہیں۔ پہلی مرتبہ بھی جنگ بندی کا مرحلہ خاطر خواہ کامیابی کے بغیر گزر گیا۔ یہ دوسری اور قطعی جنگ بندی ہے۔ گزشتہ ہفتہ حماس نے 72 گھنٹوں کی جنگ بندی سے توسیع سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک اسرائیل اُن کے مطالبات بالخصوص غزہ کراسنگ کو کھول نہیں دیتا اور ساحلی بندرگاہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، لڑائی جاری رہے گی۔ اسرائیل کے ایک عہدیدار نے اسرائیل ریڈیو کو بتایا کہ مذاکرات میں تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے اور فریقین کے مابین فرق کافی طویل ہے۔ اسرائیلی عہدیداروں نے بتایا کہ حماس کے ساتھ طویل مدتی جنگ بندی معاملت کو یقینی بنانے کے لئے مزید 72 گھنٹے درکار ہیں۔
ریڈیو اسٹیشن نے اطلاع دی کہ اسرائیلی وفد توقع ہے کہ غزہ میں بعض پابندیوں میں نرمی کے لئے تیار ہوجائے گا۔ اِس میں ماہی گیری کے حقوق، غزہ میں زائد اشیاء کی منتقلی کی اجازت اور حماس کے عہدیداروں کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے استعمال ہونے والے فنڈس کے داخلہ کی اجازت شامل ہے۔ اسرائیلی وفد نے کہاکہ سمندری بندرگاہ اور غزہ میں ایرپورٹ کھولنے کی اجازت دینے حماس کا مطالبہ بہرصورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ یروشلم پوسٹ نے یہ اطلاع دی۔ جنگ بندی کے دوسرے دن آج فلسطینی عوام اپنے گھروں کی تباہی کا نظارہ کرتے دیکھے گئے۔ 8 جولائی سے شروع ہوئی اِس لڑائی میں اسرائیل نے شدید ترین بمباری کی اور کئی رہائشی علاقوں کو تباہ و برباد کردیا۔ اِس بمباری کے نتیجہ میں جہاں مکانات کھنڈر میں تبدیل ہوگئے وہیں ہر طرف موریوں کا پانی بہتا نظر آرہا ہے۔ یہاں صاف پینے کے پانی اور برقی کا بحران پایا جاتا ہے۔ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی ناگزیر ہوگئی ہے۔ امدادی گروپس کی جانب سے بنیادی ضروریات کی اشیاء جیسے بستر اور پینے کے پانی کی بوتلیں فراہم کی جارہی ہیں۔ چار ہفتوں کی اِس جنگ میں 1939 فلسطینی جاں بحق ہوگئے اور 67 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ اسرائیل یہ چاہتا ہے کہ حماس کی عسکری طاقت کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے۔ دوسری طرف حماس کی جانب سے جو مطالبات کئے جارہے ہیں
اُن میں غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنا اور ساحلی سمندر میں ماہی گیری کے حقوق فراہم کرنا اور فضائی اور سمندری راستوں کو غزہ کیلئے کھول دینا شامل ہے۔ اسرائیلی حکام نے غزہ کے اندر اور باہر اشیاء اور عوام کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ اسرائیل کا یہ کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی درآمد روکنے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ علاقہ میں حالیہ تشدد اُس وقت شروع ہوا جب اسرائیل نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیاکہ وہ غزہ کے فائر کئے جانے والے راکٹس کا سلسلہ روکنا چاہتا ہے۔ اِس کے علاوہ غزہ میں سرنگوں کے نیٹ ورک اور سرحد پار حملوں کو روکنا بھی اُس کے فضائی حملوں کا مقصد ہے۔