غزہ؍ یروشلم۔/26اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیل اور فلسطین نے آج طویل مدتی غزہ جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔ حماس کے زیر اقتدار غزہ پٹی میں 50 روزہ جنگ کو ختم کرانے کیلئے مصر کی ثالثی کامیاب ہوگئی۔ اس جنگ میں اب تک2500 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ حماس کے ترجمان سمیع ابو زہری نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طئے ہوا ہے۔ جنگ بندی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔قاہرہ کی جانب سے باقاعدہ اعلان کا انتظار ہے۔ زہری نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہوئے معاہدہ کا مصر کی طرف سے سرکاری طور پر اعلان ہوگا۔ فلسطینی عہدیداروں نے کہا کہ قاہرہ کے اقدامات کے باعث ہی 7ہفتوں سے جاری جنگ کو غیر معینہ مدت کیلئے روک دیا گیا ہے۔ اسرائیل اور مصر کو جانے والے غزہ کے راستوں کی ناکہ بندی بھی فوری طور پر برخواست کردی جارہی ہے، یہ راستے اب کھول دیئے جائیں گے۔ بحر روم میں ماہی گیری کے زون کو بھی وسعت دی جارہی ہے۔ دوسرے مرحلہ میں جو ایک ماہ کے بعد شروع ہوگا اسرائیل اور فلسطین کے درمیان غزہ بندرگاہ کی تعمیر اور مغربی کنارہ میں حماس کے قیدیوں کی اسرائیل کی جانب سے رہائی پر بات چیت ہوگی۔ فلسطین کے ایک سینئر عہدیدار نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ فلسطینیوں نے غزہ میں مستقل جنگ بندی پر اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے
تاہم اس معاہدہ سے متعلق کئے جارہے دعوؤں کی اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی توثیق نہیں ہوسکی ہے۔ اسرائیل نے اس معاہدہ کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ فلسطینی عہدیداروں نے بتایا کہ جنگ بندی کیلئے کسی وقت کا تعین نہیں کیا گیا البتہ استقدامی اثر کے ساتھ اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کی تفصیلات صدر فلسطین محمود عباس ہی اپنے مغربی کنارہ ہیڈ کوارٹر سے تقریر کے ذریعہ بتائیں گے۔ یہ تقریر ہندوستانی وقت کے مطابق رات 9:30بجے کی جائے گی۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک مستقل جنگ بندی کیلئے معاہدہ ہورہا ہے جس کے تحت غزہ کے مطالبات کو پورا کرنے کی ضمانت دی جائے گی اور غزہ کے راستوں کی رکاوٹوں کو ہٹادیا جائے گا۔ غزہ پر حکومت کرنے والی تنظیم حماس اور محمود عباس کی زیر قیادت پارٹی نے اس معاہدہ سے اتفاق کیا ہے۔ قبل ازیں اسرائیل کے فضائی حملوں میں بلند عمارتوں کو نقصان پہنچا جس میں دو فلسطینی ہلاک ہوگئے۔ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ کی کوششوں کے درمیان اس حملہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل نے ابھی تک جنگ بندی کو قبول نہیں کیا ہے۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے حماس پر دباؤ برقرار رکھنے کیلئے سلسلہ وار حملے کئے ہیں۔