اسرائیلی کھدائیوں سے القدس میں اسلامی آثار تباہی سے دوچار

یروشلم۔ 20 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کے ذمہ دار ادارہ اقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے جنوب میں اسرائیلی حکام کی جانب سے جاری کھدائیوں کے نتیجے میں اسلامی آثار قدیمہ غیرمعمولی تباہی سے دوچار ہوگئے ہیں، اگر غیرقانونی کھدائیوں کا سلسلہ روکا نہ گیا ان سے قبلہ اول کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے ماتحت کام کرنے والے سرکاری ادارہ ’’صیہونی آثارقدیمہ اتھارٹی‘‘ اور یہودی توسیع پسندی میں سرگرم گروپ ’’العاد‘‘ جنوبی مسجد اقصیٰ میں وادیٔ حلوہ کے داخلی راستے پر مسلسل کھدائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کہا گیاکہ جہاں پر یہ کھدائیاں جاری ہیں وہاں کئی ایک اسلامی آثار قدیمہ موجود ہیں۔ ان میں بعض عمارتیں خلافت بنی امیہ کے دور میں بنائی گئی تھیں جبکہ کچھ عمارتیں بنی عباس کے دور کی بھی موجود ہیں جنہیں اس دور کے لوگ اپنی رہائش گاہوں کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ عباسی دور کا ایک قبرستان بھی اس جگہ موجود ہے۔

یہ تمام مقامات فلسطین کی قدیم اسلامی اور عرب آثارقدیمہ کی دولت میں شامل ہیں اور اسرائیل ایک سازش کے تحت ان تمام اہم تاریخی مقامات کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔اقصیٰ فاؤنڈیشن نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے تاریخی آثارقدیمہ کو بچانے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کریں اور بیت المقدس کو یہودیانے سے بچائیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس کے ماہرین کی ایک ٹیم مسلسل کھدائیوں کی جگہ کا معائنہ کرتی رہی ہے۔ جہاں پر کھدائیاں جاری ہیں اس کا رقبہ 6 ایکڑ پر مشتمل ہے۔ اس جگہ پر صیہونی بلدیہ نے 1970ء میں قبضہ کرکے اسے عوامی مقامات قرار دیا تھا تاکہ وہاں پر یہودی توسیع پسندی کی راہ ہموار کی جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق مسجد اقصیٰ کے اطراف جاری کھدائیوں کا اصل مقصد کسی تاریخی یہودی کھنڈر کی تلاش نہیں بلکہ یہ تمام مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کی کوشش ہے۔ اسرائیل دراصل مسلسل کھدائی سے شہر کا تاریخی نقشہ تبدیل کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا چا ہتا ہے کہ فلسطینیوں کا اس شہر مقدس پر کوئی حق نہیں بلکہ اس کے اصلی مالک صرف یہودی ہیں۔