رملہ ۔ 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) فلسطین کے ایک سینئر عہدیدار کا اسرائیلی فوج کی زدوکوب کے بعد آج انتقال ہوگیا۔ وہ مبینہ طور پر ایک احتجاجی گروپ میں شامل تھے جو مغربی کنارہ میں نکالا گیا تھا۔ صدر فلسطین محمود عباس نے اس بربریت پر مبنی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے جوابی کارروائی کرنے کا عہد کیا۔ جیاد ابو عین اسرائیلی نوآبادیات کے مسئلہ کے انچارج تھے اور فلسطینی اتھاریٹی کی جانب سے مقرر کئے گئے تھے۔ وہ سینہ پر زدوکوب کے نتیجہ میں شہید ہوگئے۔ ڈائرکٹر رملہ ہاسپٹل احمد پتاوی نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے ابو عین کو رائفلوں کے کندوں سے اور اپنی ہیلمٹس سے احتجاجی رولس زدوکوب کیا تھا۔ یہ جلوس ترموس ایا دیہات میں دو رملہ کے قریب ہے، نکالا گیا تھا۔ ایک فوٹو گرافر کے بموجب اسرائیلی فوجیوں نے احتجاجی جلوس پر جس میں ابوعین بھی شریک تھے، آنسو گیس استعمال کی تھی۔ اس جلوس میں 300 فلسطینی شریک تھے اور اسرائیل کے ساتھ صلح کے خواہشمند تھے۔ 3 فوجیوں نے ابوعین کو گرفت میں لے لیا اور دیگر فوجیوں نے رائفل کے کندوں سے ان کے سینے پر ضرب لگائی۔ بعدازاں انہیں ہاسپٹل منتقل کردیا گیا۔ حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ابو عین کی موت پر حماس اظہار تعزیت کرتی ہے اور فلسطینی اتھاریٹی سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے ساتھ صیانتی تعاون ترک کردیا جائے۔