یروشلم۔28 جولائی ۔(سیاست ڈاٹ کام) مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا فلسطینی نوجوان جانبر نہ ہوسکا ۔ گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے رفاہ میں فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 17سالہ نوجوان شدید زخمی ہو گیا تھا۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق زخمی ہونے والا نوجوان ہاسپٹل میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔ واضح رہے کہ غزہ کی سرحد پر مار چ سے اب تک اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں 157فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ غزہ میں حماس حکومت کے وزیر صحت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں میں ایک 14 سالہ بچہ بھی شامل ہے جن کو شمالی غزہ پٹی پر سر پر گولی مار کر نشانہ بنایا گیا۔اس سے قبل وزارت کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ 43 سالہ غازی ابومصطفی کو اسرائیلی فوج نے سر پر گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔فلسطینیوں کی ہلاکت پر اسرائیلی فوج کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 7 ہزار فلسطینی مظاہرین کی جانب سے ان پر پتھر برسائے گئے اور جلتے ہوئے ٹائر پھینکے گئے تھے۔خیال رہے کہ غزہ پٹی پر فلسطینی مظاہرین کی جانب سے رواں سال مارچ کے مہینے سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جہاں اب تک 157 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔جھڑپ کے بعد، اسرائیلی پولیس نے مسجد الاقصیٰ دوبارہ کھول دیا ہے۔