وارانسی ۔ 10 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) استاد بسم اللہ خاں مرحوم کی پسندیدہ شہنائی کے تعلق سے ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ان کے چھوٹے لڑکے نے یہ دعویٰ کیا ہیکہ آبائی مکان سے شہنائی لاپتہ ہوگئی جبکہ پولیس نے اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ ان کے گھر میں ہی موجود ہے۔ شہنائی نواز استاد بسم اللہ خاں کے تین فرزندوں کے منجملہ سب سے چھوٹے ناظم حسین نے کل یہ دعویٰ کیا تھا کہ قیمتی شہنائی ان کے گھر سے لاپتہ ہے۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے پارلیمانی دفتر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے استاد بسم اللہ خاں کے مکان کو ثقافتی ورثا قرار دینے کی بھی خواہش کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے بڑے بھائی اس جائیداد کو تجارتی کامپلکس میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے مکتوب میں شہنائی کی گمشدگی کا ذکر نہیں کیا۔ مقامی پولیس نے ان کے دعویٰ کی تردید کی اور کہا کہ یہ شہنائی خود ان کے گھرمیں موجود ہے اور بھائیوں میں جائیداد کے تنازعہ کی وجہ سے ایسا کیا جارہا ہے۔