سابق آئی ایس آئی سربراہ اسد درانی کا بیان
اسلام آباد ۔ 11 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے محکمہ سراغ رسانی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے الجزیرہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا غالب امکان ہے کہ اسامہ بن لادن کو حکومت پاکستان نے پناہ دی تھی اور امید ظاہر کی کہ القاعدہ کے سربراہ امریکہ کے ساتھ سودے بازی کا ایک ہتھیار تھے تاکہ ان کی ہلاکت سے پہلے کہیں امریکہ افغانستان سے معاہدہ نہ کرلے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بالکل یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کا تجزیہ درست ہے لیکن اس کا غالب امکان ہے۔ ا نہوں نے شک ظاہر کیا کہ حکومت کی پالیسی جو آئی ایس آئی پر ظاہر کی گئی تھی، اس میں بھی یہ نہیں ظاہر کیا گیا تھا کہ القاعدہ کے سربراہ کا پتہ کیا ہے۔ ان کی موت تک آئی ایس آئی کو اس کی اطلاع نہیں مل سکی۔ درانی آئی ایس آئی کے 1990 ء سے 1992 ء تک ڈائرکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پتہ نہیں تھا کہ پاکستان بن لادن کی سرپرستی کر رہا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں پڑوسی ملک افغانستان میں اتنا زیادہ اثر و رسوخ قائم کرنے کیلئے ان کو پناہ فراہم کر رہا تھا۔ اس سوال پر کہ کیا ایبٹ آباد کا مکان جہاں بن لادن مقیم تھے، آئی ایس آئی کے پناہ گاہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایس آئی نے ایسا کیا ہوتا تو میں کہتا کہ انہوںنے ایک کارنامہ انجام دیا ہے۔