کولکتہ۔/21اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) اپنی گرفتاری سے رہائی کے باوجود بھی دائیں بازو کی سماجی کارکن اروم چانو شرمیلا نے اپنا عزم برقرار رکھا ہے کہ جب حکومت مسلح افواج کو دیئے گئے زائد اختیارات کو ختم نہیں کردیتی (AFSPA) اس وقت تک نہ تو وہ اپنے مکان میں داخل ہوں گی اور نہ ہی اپنی والدہ سے ملاقات کریں گی۔ 42سالہ شرمیلا اپنی 14سالہ بھوک ہڑتال جاری رکھیں گی جس کے لئے انہوں نے سرکاری جواہر لال نہرو انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس اینڈ ہاسپٹل کے روبرو ایک عارضی شیڈ قائم کیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انہیں جبری طور پر ناک کے ذریعہ سیال غذا دی گئی تھی جبکہ ہاسپٹل سے اروم شرمیلا کا مکان صرف چند کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے
جہاں ان کی والدہ اور بھائی رہائش پذیر ہیں۔ دریں اثناء امپھال سے تعلق رکھنے والے شرمیلا کے بھائی اروم سنگھا جیت نے میڈیا کو بتایا کہ شرمیلا نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ جب تک ریاست سے AFSPA کو برخواست نہیں کردیا جاتا، نہ تو وہ اپنے گھر جائے گی اور نہ ہی والدہ سے ملاقات کرے گی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ہاسپٹل نما جیل سے کل باہر آنے کے بعد شرمیلا اپنے بھائی سے مسلسل ملاقات کررہی ہیں۔ مقامی عدالت نے انہیں بھوک ہڑتال کے ذریعہ خود سوزی کے الزام سے بری کردیا تھا۔ شرمیلانے 5نومبر 2000ء کو اپنی بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا اور عزم کیا تھا کہ وہ بھوک ہڑتال کے دوران اپنی والدہ سے ملاقات نہیں کریں گی کیونکہ ماں بیٹی کے رشتہ میں جذباتیت ہوتی ہے جو ان کے عزم پر حاوی نہ ہوجائے۔