امپھال 22 اگست (سیاست ڈاٹ کام) عدالت کے حکم پر دو روز قبل رہا کئے جانے کے بعد سیول رائٹس جہد کار اروم شرمیلا کو پولیس نے ایک بار پھر اقدام خودکشی کے الزام میں گرفتار کرلیا اور جبری طور پر انہیں اُن کے عارضی قیام گاہ سے سٹی ہاسپٹل لیجایا گیا ۔ عارضی رہائش گاہ میں اروم شرمیلا اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے تھیں۔ دریں اثناء منی پور اے ڈی جی (انٹلی جنس) سنتوش ماچیرلا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اروم شرمیلا کو آج دوبارہ گرفتار کیاگیا ہے اور بعدازاں انہیں چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کے اجلاس پر پیش کیا جائے گا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ چہارشنبہ کے روز ایک مقامی عدالت نے اروم شرمیلا کو بھوک ہڑتال کرتے ہوئے اقدام خودسوزی کے الزامات سے بری کردیا تھا لیکن اروم نے رہا ہوتے ہی پھر وہی حرکت شروع کردی یعنی انہوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی۔ غذا اور پانی کا استعمال ترک کرنے کے علاوہ انہوں نے کسی بھی نوعیت کا میڈیکل چیک اپ کرانے سے بھی انکار کردیا ہے ۔
ماچیرلا نے مزید کہا کہ اروم کی صحت دن بدن بگڑتی جارہی ہے اور انہیں اب دوبارہ اسی جواہر لال نہرو ہاسپٹل کے وارڈ میں رکھا گیا ہے جہاں اس سے قبل ان کا علاج کیاگیا تھا ۔ دوسری طرف کولکتہ سے ملنے والی خبروں کے مطابق اروم کی دوبارہ گرفتاری پر ان کے ارکان خاندان نے حکومت منی پور پر شدید تنقید کی ہے اور کہا کہ اروم ایک ایسی احتجاجی ہیں جنہوںنے آج تک کبھی بھی تشدد کا راستہ نہیں اپنایا ۔ ان کا صرف یہی مطالبہ ہے کہ AFSPA کو برخاست کردیا جائے ۔ عدالت نے انہیں بری بھی کردیا تھا تو پھر انہیں دوبارہ اسی الزامات کے تحت کیونکر گرفتار کیا جاسکتا ہے؟منی پور ویمن گن سروائیو رس نیٹ ورک کی بانی بینا لکشمی نیپارم نے یہ بات کہی ۔ شرمیلا کے بھائی اروم سنگھا جیت نے بھی اُن کی بہن کی دوبارہ گرفتاری کی مذمت کی اور پولیس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پولیس کے جبر کی وجہ سے ان کی بہن کا ایک ہاتھ زخمی ہوگیا ہے ۔ یاد رہے کہ غذا اور پانی کا استعمال نہ کرنے پر انہیں پولیس نے جبری طور پر ہاسپٹل میں شریک کیا ہے۔