اصول پسند افراد پر کڑی نظر ‘میڈیا کو آرڈینیٹر نے ’سیاست‘کے انکشافات کو درست تسلیم کرلیا
حیدرآباد 8 مئی (سیاست نیوز)مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی میعاد کے خاتمہ کو صرف پانچ دن باقی ہیں لیکن وہ یونیورسٹی چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وائس چانسلر نے میعاد میں توسیع کیلئے نئی دہلی میں اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔ اگرچہ وزارت فروغ انسانی وسائل اُن کی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور نہ ہی انہیں توسیع دینے کے حق میں ہے تاہم بی جے پی کے بعض قائدین کے سہارے وائس چانسلر ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سبکدوش ہونے والے وائس چانسلر نے وزیر اعظم سے قربت رکھنے والے ایک صنعتکار کو اپنا ہمنواء بنانے کی کوشش کی تا کہ اردو یونیورسٹی پر مزید کچھ مدت کیلئے راج کرسکیں لیکن اس کے امکانات نہیں کے برابر ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ وائس چانسلر کی میعاد میں توسیع نہ ملنے کی صورت میں محمد میاں چاہتے ہیں کہ اپنے بااعتماد شخص کو اس عہدہ پر فائز کریں اور خود کسی اور مرکزی ادارے میں اہم عہدہ حاصل کریں۔ گذشتہ پانچ برسوں کی میعاد کے دوران وائس چانسلر اور اُن کے حواریوں نے جس طرح من مانی کی اس کا تسلسل شائد موجودہ وائس چانسلر کی رخصتی کے بعد بھی جاری رہے گا کیونکہ بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں نے یونیورسٹی میں اپنی جڑیں کافی مستحکم کرلی ہیں۔ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اصول پسند اور دیانتدار افراد اس بات کو لیکر حیرت میں ہیں کہ آخر اردو کے نام پر قائم کی گئی اس یونیورسٹی میں کب تک لوٹ کھسوٹ جاری رہے گی۔ اُن کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی دراصل بدعنوان افراد کیلئے سونے کی کان کی طرح ہے اور کوئی بھی ایک بار قدم رکھنے کے بعد واپسی کیلئے تیار نہیں۔ یونیورسٹی کے قیام سے لیکر آج تک اگر مختلف مالیاتی امور کی جانچ کی جائے تو شائد اسکام کی مالیت کئی سو کروڑ تک پہنچ جائے گی جس میں بجٹ کے بیجا استعمال کے علاوہ تقررات کیلئے رشوت خوری شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اردو کی ترقی اور فروغ کے نام پر ملک بھر میں قائم کئی اداروں اور تنظیموں کی خاموشی بھی معنی خیز ہے ۔ حالیہ عرصہ میں مرکزی حکومت نے بتایا جاتا ہے کہ بعض امور کے سلسلہ میں یونیورسٹی سے وضاحت طلب کی تھی لیکن یونیورسٹی میں موجود وائس چانسلر کے حواریوں نے مرکز کو کسی طرح گمراہ کن وضاحت روانہ کرتے ہوئے معاملہ کو ٹال دیا۔ خود حیدرآباد میں اردو کے کئی ادارے اور تنظیمیں سرگرم ہیں لیکن افسوس کہ کسی کو اردو یونیورسٹی میں جاری بے قاعدگیوں کی روک تھام کی فکر نہیں۔ سیاسی جماعتیں جب کبھی اس مسئلہ پر آواز اٹھاتی ہیں تو انہیں قومی قیادت سے دباو ڈال کر احتجاج سے روک دیا جاتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گذشتہ پانچ برسوں کی بے قاعدگیوں اور کرپشن کی سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کا حکم دیا جائے ۔ اسی دوران یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے حامیوں نے خوف و دہشت کا ماحول پیدا کردیا ہے ۔ بے قاعدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ یونیورسٹی میں اس قدر خوف کا ماحول ہے کہ غیر جانبدار افراد اپنی عزت بچانے کیلئے وائس چانسلر کے حامیوں کا سامنا کرنے سے بچ رہے تھے۔ یونیورسٹی میں موجود کئی پروفیسرز اور دیگر اہم عہدوں پر فائز افراد کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اُن کے اطراف بعض مخبر متحرک کردیئے گئے تا کہ یہ پتہ چلایا جاسکے کہ یونیورسٹی کی صورتحال سے میڈیا کو کون آگاہ کررہا ہے۔ اخبارات اور صحافتی برادری سے قربت رکھنے والوں پر خصوصی نظر رکھی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں کئی افراد نے وائس چانسلر کی میعاد کی تکمیل تک اپنے ٹیلیفون بند کرنے میں عافیت محسوس کی ۔ وائس چانسلر نے شعبہ تعلقات عامہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ میڈیا سے بات چیت سے گریز کریں۔ یونیورسٹی کے حال ہی میں تقرر کردہ میڈیا کوآرڈینیٹر اور پی آر او نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں سیاست سے کسی بھی مسئلہ پر بات چیت سے پابند کیا گیا ہے۔’سیاست‘ نے یونیورسٹی کے بارے میں جن حقائق کا انکشاف کیا اُس پر یونیورسٹی کسی وضاحت کے موقف میں نہیں۔ میڈیا کوآرڈینیٹر جو ایک انگریزی اخبار کے ریٹائرڈ ملازم ہیں خود اس بات کا اعتراف کیا کہ سیاست میں شائع ہونے والی خبروں میں سچائی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ویب سائیٹ کے بارے میں سیاست نے جو خبر شائع کی تھی اس کے بعد یونیورسٹی نے نہ صرف ویب سائیٹ کو درست کیا بلکہ ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی کی گئی ۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ 2008 سے یونیورسٹی کے بی اے ‘بی کام اور بی ایس سی کورسیز غیر مسلمہ ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں پائی جانے والی خامیوں کے انکشاف کے بجائے سیاست کو یونیورسٹی کی اصلاح میں تعاون کرنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذمہ دار صحافتی ادارے کا اولین فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کو حقائق سے آگاہ کریں۔ یہی فریضہ سیاست انجام دے رہا ہے ۔ وائس چانسلر نے جس انداز اور طریقہ کار سے میڈیا کوآرڈینیٹر کا تقرر کیا وہ خود تنازعہ کا سبب بن چکا ہے ۔ وائس چانسلر نے اس تجربہ کار صحافی کو اپنی غیر مجاز سرگرمیوں کے تحفظ کیلئے مقرر کیا ہے اور وہ یونیورسٹی کے امور میں وائس چانسلر کے بعد مختار کُل کی حیثیت رکھتے ہیں۔