اردو یونیورسٹی میں لاکھوں روپئے کا اسکام ؟

نصابی کتب کی اشاعت میں دھاندلیاں، ڈائرکٹر کو طویل رخصت پر بھیج دیا گیا، آڈیٹرس نے نشاندہی کی

حیدرآباد۔/18اپریل، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں گزشتہ چند برسوں کے دوران یوں تو کئی اسکامس منظر عام پر آئے لیکن حکام نے کسی نہ کسی طرح ان کی پردہ پوشی کرتے ہوئے معاملہ کو دبانے کی کوشش کی۔ لیکن گزشتہ دنوں فاصلاتی تعلیم کے ڈپارٹمنٹ میں لاکھوں روپئے کا اسکام منظر عام پر آیا جس کے فوری بعد فاصلاتی تعلیم کے ڈائرکٹر کو جو اگرچہ وائس چانسلر کے انتہائی بااعتماد شمار کئے جاتے ہیں انہیں طویل رخصت پر روانہ کردیا گیا تاکہ اسکام کو منظر عام پر لانے سے روکا جاسکے۔ یونیورسٹی کے باوثوق ذرائع کے مطابق ڈسٹینس ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں نصابی کتب کی اشاعت کے سلسلہ میں یہ اسکام منظر عام پر آیا جس میں ابتداء میں 85لاکھ روپئے کے اسکام کا اندازہ کیا گیا تاہم بعد میں اعلی حکام کی مداخلت کے بعد اسے 17لاکھ 50ہزار ظاہر کیا جارہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈسٹینس ایجوکیشن کے حکام نے نصابی کتب کی اشاعت کا کام بیرون ریاست اداروں کے حوالے کیا اور بھاری رقومات ادا کرتے ہوئے کتابیں شائع کی گئیں۔ ان معاملتوں میں لاکھوں روپئے کی ہیرا پھیری ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کی آڈٹ کرنے والے آڈیٹرس نے اس بے قاعدگی کی نشاندہی کی اور 85لاکھ روپئے کے خرچ کے بارے میں اعتراضات کرتے ہوئے وضاحت طلب کی۔ اعلیٰ حکام فوری حرکت میں آتے ہوئے کسی نہ کسی طرح اس اسکام کی رقم کو گھٹاکر17لاکھ بتانے میں کامیاب ہوگئے اور خود کو دیانتدار ثابت کرنے کیلئے متعلقہ ڈپارٹمنٹ کے ڈائرکٹر کو بتایا جاتا ہے کہ طویل رخصت پر روانہ کردیاگیا۔ انہیں چند دن قبل ہی رخصت پر بھیج دیا گیا اور اس عہدہ کی ذمہ داری وائس چانسلر کے انتہائی بااعتماد اور راز دار شخص کو دی گئی ہے تاکہ کسی طرح اس اسکام کو منظر عام پر آنے سے روکا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق میں جب کبھی آڈیٹرس نے یونیورسٹی کے مختلف زائد اخراجات اور اسکامس کی نشاندہی کی تو یونیورسٹی نے کسی نہ کسی طرح انہیں ہموار کرتے ہوئے اسکام کو دبادیا۔ یہاں تک اطلاع ملی ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں یونیورسٹی کی آڈٹ کرنے والے افراد کے قریبی رشتہ داروں اور سفارش کردہ افراد کے یونیورسٹی میں تقررات کئے گئے تاکہ اسکامس کو چھپایا جاسکے۔ ڈسٹینس ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے اس مبینہ اسکام کے بارے میں وضاحت کے سلسلہ میں جب ڈسٹینس ایجوکیشن کے ذمہ داروں سے ربط پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو کسی نے بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ اگرچہ اس ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے افراد نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بے قاعدگیوں کا اعتراف کررہے تھے تاہم وہ وائس چانسلر اور ان کے حلقہ سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ انہیں ملازمت کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر گزشتہ چند برسوں کے دوران ڈسٹینس ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں نصابی کتب کی اشاعت اور دیگر سرگرمیوں پر کئے گئے خرچ کی غیر جانبدارانہ جانچ کی گئی تو لاکھوں نہیں کروڑہا روپئے کی بے قاعدگی منظر عام پر آئے گی اور اس میں ملوث افراد کے تار اعلیٰ سطح تک جڑے نظر آئیں گے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ یونیورسٹی میں موجود افراد اگرچہ اسکام سے واقف ہیں لیکن وہ کھل کر اظہار خیال کرنے سے خوفزدہ ہیں کیونکہ یونیورسٹی پر وائس چانسلر اور ان کے تقریباً 5 حواریوں کا اس قدر کنٹرول ہے کہ کوئی بھی یونیورسٹی کے معاملات میں لب کشائی کی جرأت نہیں کرسکتا۔ بعض ملازمین کا کہنا ہے کہ اردو یونیورسٹی میں دراصل ایک مافیا سرگرم ہے جو اردو کے نام پر من مانی اور بے قاعدگیوں کا ارتکاب کررہا ہے۔ اس گروہ سے تعلق رکھنے والے اور ان کی تائید کرنے والوں کا تعلق شمالی ہند سے ہے اور انہوں نے نہ صرف یونیورسٹی میں اپنی اجارہ داری کو برقرار رکھا ہے بلکہ یو جی سی اور دیگر قومی اداروں میں ان کے بہتر روابط ہیں جس کے سبب کوئی بھی اسکام اور بے قاعدگی پر کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایسے مرکزی ادارے جو یونیورسٹی کے اُمور میں مداخلت کرسکتے ہیں وہاں کے اعلیٰ عہدیداروں کے سفارش کردہ افراد اور رشتہ داروں کے اردو یونیورسٹی میں تقررات کئے گئے جبکہ وہ افراد اردو زبان سے نابلد ہیں اور یہ تقررات اردو یونیورسٹی میں تقررات کے قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے۔