حیدرآباد ۔22 ۔ اپریل (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر کی میعاد 12 مئی کو ختم ہورہی ہے اور وزارت فروغ انسانی وسائل نے نئے وائس چانسلر کے تقرر کیلئے اعلامیہ جاری کردیا۔ تاہم اپنی مدت کے اختتام سے قبل وائس چانسلر اہم عہدوں پر اپنے حواریوں کے تقررات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسے وقت جبکہ نئے وائس چانسلر کی تلاش شروع ہوچکی ہے اور بتایا جاتاہے کہ اس سلسلہ میں سرچ کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن موجودہ وائس چانسلر اپنی سرگرمیوں سے باز آنے کیلئے تیار نہیں۔ وہ اپنی میعاد کے اختتام تک یونیورسٹی کا سارا کنٹرول اپنے حواریوں کے ذمہ کرنے کی سمت پیشقدمی کر رہے ہیں تاکہ ان کے دور میں کی گئی مبینہ بے قاعدگیوں کو منظر عام پر آنے سے روکا جاسکے۔ ریاست کی مختلف یونیورسٹیز کے سابق وائس چانسلر اور شعبہ تعلیم کے ماہرین سے سیاست نے وائس چانسلر کے اختیارات کے بارے میں بات چیت کی، ہر کسی کا کہنا تھا کہ میعاد کی تکمیل سے تقریباً 6 ماہ قبل وائس چانسلر کو کسی بھی پالیسی فیصلہ سے گریز کرنا چاہئے ۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل نے اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو میعاد کی تکمیل سے تین ماہ قبل پالیسی فیصلوں سے گریز کا مشورہ دیا تھا لیکن وائس چانسلر نے ان احکامات کو نظرانداز کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر ایک طرف اپنی میعاد میں توسیع کیلئے دہلی میں مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے سرگرم پیروی کر رہے ہیں تو دوسری طرف میعاد کی عدم توسیع کی صورت میں کوئی اور اہم عہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اردو یونیورسٹی میں موجود ان کے بااعتماد افراد کا ماننا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر کی میعاد میں توسیع کی جاسکتی ہے اور حالیہ برسوں میں تقررات اور دیگر امور میں کی گئی مبینہ بے قاعدگیوں کے انکشافات کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ وائس چانسلر کے حواری مختلف ذرائع سے قانونی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے اردو یونیورسٹی کی بے قاعدگیوں کے انکشاف کو روکنا چاہتے ہیں۔ سیاست نے جب سے اردو یونیورسٹی کے معاملات میں حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی، تعلیمی حلقوں میں اس کا خیرمقدم کیا جارہا ہے اور مختلف بدعنوانیوں سے متعلق تفصیلات بھی حاصل ہورہی ہیں۔ یونیورسٹی کے ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں وائس چانسلر نے اپنے حواریوں کو جس طرح اہم ذمہ داریاں دیں، اسے ’’بندر بانٹ‘‘ ہی کہا جائے گا کیونکہ اپنے قریبی افراد کو کئی ایک زائد ذمہ داریاں حوالے کردی گئیں۔
وائس چانسلر سے قربت رکھنے والوں کی زائد ذمہ داریوں کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ مٹھی بھر افراد ساری یونیورسٹی پر کنٹرول کر رہے ہیں اور یونیورسٹی کے تمام امور ان کے اطراف گھوم رہے ہیں۔ یونیورسٹی میں سابق میں ایک وائس چانسلر کے پی اے کی حیثیت سے خدمات کا آغاز کرنے والے شخص کو آج تقریباً 7 اہم ذمہ داریاں دیدی گئیں اور وہ شخص دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف پروفیسر بلکہ ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ اور مختلف شعبوں کا انچارج بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ کئی ایسے افراد ہیں جنہیں ٹیچنگ کا کوئی تجربہ نہیں لیکن انہیں ٹیچنگ سے متعلق اہم ذمہ داریاں دیدی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وائس چانسلر نے اپنے در پردہ کاموں کی تکمیل میں آسانی کیلئے رجسٹرار کو اس ذمہ داری سے سبکدوشی کیلئے مجبور کردیا اور اپنے قریبی شخص کو اس عہدہ کی زائد ذمہ داری دیدی۔ اگر مرکزی حکومت وائس چانسلر کی میعاد میں توسیع کرتی ہے تو وہ دوبارہ اپنی سرگرمیوں کو بآسانی جاری رکھ پائیں گے۔ بصورت دیگر ان کے بااعتماد افراد غیر مجاز سرگرمیوں کی پردہ پوشی کرتے رہیں گے۔ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے بعض اہم شخصیتوں نے نجی طور پر اس بات کا اعتراف کیا کہ کئی معاملات میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ تاہم وہ کھل کر اس بارے میں کہنے سے گھبرا رہے ہیں۔ یونیورسٹی کے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف میں خوف کا ماحول ہے کیونکہ وائس چانسلر کے قریبی افراد نے اپنے جاسوسوں کو سرگرم کردیا ہے تاکہ مخالفین کی نشاندہی کی جاسکے ۔ کئی افراد نجی ملاقاتوں میں بے قاعدگیوں اور من مانی فیصلوں کو تسلیم کر رہے ہیں۔ ان کی یہ بھی شکایت ہے کہ یونیورسٹی میں اقرباء پروری اور علاقائی عصبیت عروج پر ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر نے اپنی میعاد کے دوران ٹی اے ڈی اے کے طور پر ایک کروڑ سے زائد کا کلیم کیا ہے۔ اس بارے میں جب آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت معلومات کیلئے درخواستیں داخل کی گئیں تو یونیورسٹی نے جواب دینے سے گریز کیا۔ یونیورسٹی کے ایک ذمہ دار نے تسلیم کیا کہ وائس چانسلر ہر ہفتہ میں تین دن حیدرآباد کے باہر ہوتے ہیں اور فلائیٹ کی فرسٹ کلاس میں سفر کرتے ہیں۔ اس طرح وائس چانسلر نے سفری خرچ پر ایک کروڑ سے زائد خرچ کئے ہیں۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن یا پھر وزارت فروغ انسانی وسائل سے کوئی ٹیم یونیورسٹی کا دورہ کرتی ہے تو اس کی آؤ بھگت پر ہزاروں روپئے خرچ کئے جاتے ہیں تاکہ وہ یونیورسٹی کے خلاف رپورٹ پیش کرنے سے باز رہیں۔ یونیورسٹی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ دہلی سے آنے والوں کی مہمان نوازی میں اردو یونیورسٹی دیگر یونیورسٹیز سے آگے ہے۔