حیدرآباد ۔ 13 ۔ مئی (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں 5 سالہ سیاہ دور کا آج خاتمہ ہوگیا جو بدعنوانیوں ، بے قاعدگیوں اور اقربا پروری سے پر تھا۔ وائس چانسلر محمد میاں کی میعاد آج ختم ہوگئی جس پر یونیورسٹی کے سینکڑوں ملازمین اور ہزاروں طلبہ نے اطمینان کی سانس لی۔ مرکز نے لاکھ کوششوں کے باوجود محمد میاں کی میعاد میں توسیع سے انکار کردیا جبکہ میعاد میں توسیع کیلئے ہر طرح کے حربے استعمال کئے گئے۔ وائس چانسلر نے اپنی واپسی سے قبل کارگزار وائس چانسلر کے عہدہ پر اپنے بااعتماد ساتھی کو نامزد کرنے کی کوشش کی ہے اور قواعد کے اعتبار سے انچارج وائس چانسلر کیلئے اہلیت رکھنے والے شخص کے ساتھ خفیہ مفاہمت کرلی گئی۔ اپنے بااعتماد ساتھی کو انچارج وائس چانسلر نامزد کرنے کے پس پردہ بے قاعدگیوں کی پردہ پوشی ہے۔ نئے وائس چانسلر کے تقرر تک انچارج وائس چانسلر گزشتہ پانچ برسوں کی بے قاعدگیوں اور خلاف ورزیوں کو درست قرار دینے کی دفتری کارروائی کی تکمیل کریںگے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ میعاد کی تکمیل سے چند گھنٹے قبل تک بھی محمد میاں نے کئی اہم فیصلے کئے جن میں مختلف افراد کی ترقی اور تبادلوں سے متعلق فیصلے شامل ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ وائس چانسلر نے رخصتی سے عین قبل کئی متنازعہ فائلوں پر دستخط کی۔ ذرائع کے مطابق کل رات دیر گئے تک موصوف نے کئی متنازعہ فائلوں کا جائزہ لیا اور ان میں سے کئی فائلوں کو غائب کردیا گیا تاکہ مستقبل میں بے قاعدگیوں کا ریکارڈ نہ رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انچارج وائس چانسلر کے عہدہ کیلئے اہلیت رکھنے والے یونیورسٹی کے سینئر موسٹ پروفیسر سے خفیہ معاہدہ کرتے ہوئے اپنے قریبی شخص کیلئے راہ ہموار کی ہے۔ خفیہ معاہدہ کے تحت جاریہ سال ستمبر میں وظیفہ پر سبکدوش ہونے والے شخص کو مزید دو سال کی توسیع دی گئی۔
موجودہ پرو وائس چانسلر کو انچارج وائس چانسلر کی حیثیت سے فائز کئے جانے کی راہ ہموار کردی گئی ہے اور اس سلسلہ میں نئی دہلی میں اعلیٰ حکام کو بھی رضامند کرلیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انچارج وائس چانسلر کی اہلیت رکھنے والی ایک خاتون پروفیسر کو اس دوڑ سے دور رکھنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ سبکدوش وائس چانسلر نے انچارج رجسٹرار کی جگہ اپنے قریبی شخص کو رجسٹرار مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلہ میں متعلقہ فائل پر دستخط کی۔ یونیورسٹی کے ذرائع نے مزید بتایا کہ نئی دہلی میں مختلف سطح پر اپنا اثر و رسوخ رکھنے والے سبکدوش وائس چانسلر نے اپنی پسند کے شخص کو وائس چانسلر کے عہدہ پر نامزد کرنے کے لئے سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ حکومت نے وائس چانسلر کے تقرر کیلئے جو سرچ کمیٹی تشکیل دی ہے ، اس پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں تک وائس چانسلر کے عہدہ پر فائز رہنے والے شخص کو میعاد کی تکمیل پر یونیورسٹی نے رسمی طور پر وداع کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ عام طور پر اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے سبکدوش وائس چانسلر کو شایان شان انداز میں وداع کیا جاتا ہے لیکن پانچ برسوں میں بے قاعدگیوں میں ملوث شخص کو کسی نے وداع تک نہیں کیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یونیورسٹی میں کس حد تک اس شخص کے بارے میں ناراضگی کا ماحول ہے۔ یونیورسٹی کے ایک سینئر استاد نے کہا کہ سبکدوش وائس چانسلر کی سرگرمیوں نے انہیں احترام کے قابل نہیں رکھا۔ پانچ برسوں کے دوران ایک بھی ایسا کارنامہ انجام نہیں دیا گیا جس کی ستائش کی جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ محمد میاں کی سبکدوشی کا طلبہ اور اساتذہ میں جشن منایا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سبکدوش وائس چانسلر اپنے ساتھیوں کو اطلاع دیئے بغیر ہی خاموشی سے اپنے آبائی مقام نئی دہلی واپس ہوگئے۔
ذرائع نے بتایا کہ سبکدوش وائس چانسلر نے روانگی سے قبل یونیورسٹی میں اپنے حواریوں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا اور یونیورسٹی پر شمالی ہند کا تسلط برقرار رکھنے کیلئے انہیں تجاویز پیش کی۔ انہوں نے ساتھیوں سے کہا کہ وہ کسی بھی طرح جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔ چونکہ یونیورسٹی میں اہم عہدوں پر شمالی ہند کا غلبہ ہے ، لہذا آنے والے کئی برسوں تک تقررات ، ترقی اور دیگر امور میں اسی علاقہ کا غلبہ برقرار رہے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ اپنے حواریوں کو سبکدوش وائس چانسلر نے جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف یونیورسٹی گرانٹ کمیشن اور وزارت فروغ انسانی وسائل میں وقفہ وقفہ سے شکایات کرنے کی بھی صلاح دی ہے۔ روانگی سے قبل انہوں نے اپنے مشیر اور میڈیا کوآرڈینیٹر کو اہم عہدوں پرفائز اپنے حواریوں سے متعارف کرایا اور کسی بھی صورت میں ان کے تحفظ کی ہدایت دی۔ بتایا جاتاہے کہ ایک سال کی مدت تک اس عہدہ پر فائز رہنے کی اہلیت رکھنے والے میڈیا کوآرڈینیٹر کو مزید توسیع دینے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔