حیدرآباد ۔15 ۔ اپریل (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کے قیام کو 17 سال مکمل ہوگئے لیکن یونیورسٹی نے ابھی تک اردو میں ویب سائیٹ تیار نہیں کی ہے ۔ اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اردو کے نام پر قائم کردہ اس یونیورسٹی کے حکام کو قیام کے مقاصد سے کس حد تک دلچسپی ہے۔ قیام کے بعد سے اب تک تین وائس چانسلرس رہے لیکن ابھی تک کسی نے بھی اپنے دور میں اردو ویب سائیٹ کے آغاز پر توجہ نہیں دی۔ یونیورسٹی کے قیام کا مقصد اردو زبان کی ترقی اور ترویج ہے اور اردو زبان میں ووکیشنل اور ٹکنیکل شعبہ میں تعلیم کی فراہمی کو مقاصد میں شامل کیا گیا ہے لیکن گزشتہ 17 برسوں میں یونیورسٹی نے اردو زبان کی ترقی اور ترویج میں کیا رول ادا کیا، اس کا اندازہ اردو ویب سائیٹ کی عدم موجودگی سے ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کی ویب سائیٹ پر تین زبانوں کا حوالہ موجود ہے
لیکن اردو زبان سے متعلق بٹن پر کلک کریں تو وہ کارکرد نہیں ہے جبکہ ہندی میں کسی حد تک یونیورسٹی کے مواد کو پیش کیا گیا ہے ۔ اردو یونیورسٹی کی مین ویب سائیٹ انگریزی زبان میں ہے اور اس میں بھی جو تفصیلات پیش کی گئیں وہ تازہ ترین نہیں جس کے باعث عوام اور طلبہ کو الجھن کا سامنا ہے۔ ویب سائیٹ کو اپ ڈیٹ کرنے کی ذمہ داری جن افراد کو دی گئی ، وہ اپنے فرائض کی تکمیل میں یکسر ناکام ہوچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں سیاست میں اردو یونیورسٹی کی ویب سائیٹ پر انسٹرکشنل میڈیا سنٹر کے بارے میں موجود گمراہ کن مواد سے قارئین کو واقف کرایا تھا۔ یونیورسٹی کے ذمہ دار اگرچہ ہر تقریب میں یونیورسٹی کے قیام کے مقاصد کی تکمیل اور یونیورسٹی کی ترقی کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں
لیکن بنیادی حقائق بالکل مختلف ہیں۔ قومی سطح کی یونیورسٹی کا 17 سال کے عرصہ میں ویب سائیٹ کی تیاری میں ناکام ہونا یقیناً باعث حیرت ہے اور وہ بھی اس زبان کی ویب سائیٹ جس کی ترقی اور جس کے نام پر یونیورسٹی قائم کی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلے وائس چانسلر کے دور میں اردو ویب سائیٹ کے آغاز کی کوشش کی گئی تھی لیکن کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔ موجودہ وائس چانسلر کے دور میں ایک موقع پر اردو ویب سائیٹ کو گوگل کے ترجمہ سے لنک کردیا گیا تھا اور اردو میں موجود مواد نہ صرف ناقابل فہم اور مضحکہ خیز تھا بلکہ اس سے یونیورسٹی کے معیار کا اندازہ ہورہا تھا۔ سیاست کی توجہ دہانی کے بعد یونیورسٹی نے گوگل سے لنک کو ختم کردیا لیکن اردو ویب سائیٹ پر کوئی توجہ نہیں کی۔ گزشتہ 17 برسوں میں یونیورسٹی نے جب اپنے قیام کے مقاصد کو جس طرح نظر انداز کیا ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دیگر شعبوں میں مقاصد کی تکمیل کس حد تک کی جارہی ہے۔ اردو ویب سائیٹ کے بارے میں جب یونیورسٹی کے پبلک ریلیشنز آفیسر عابد عبدالواسع سے ربط پیدا کیا گیا تو انہوں نے یونیورسٹی کے اس تساہل کا اعتراف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق میں ویب سائیٹ کی تیاری کی کوشش کی گئی تھی لیکن یہ کام آگے نہیں بڑھ سکا۔
انہوں نے حالیہ عرصہ میں گوگل لنک سے اردو کو مربوط کرنے کی غلطی کو بھی تسلیم کیا اور ویب سائیٹ کے مینٹننس اور اپ ڈیٹ کرنے کی ذمہ داری آئی ٹی سیل کے انچارج پروفیسر عبدالواحد کی ہے اور اس جانب ان کی توجہ مبذول کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی یونیورسٹی کے اعتبار سے شایان و شان انداز میں اردو ویب سائیٹ کی تیاری کا کام جاری ہے۔ یونیورسٹی کے حکام بھلے ہی لاکھ عذر پیش کرلیں لیکن وہ اردو کو نظر انداز کرنے کے جرم سے خود کو بری الزمہ قرار نہیں دے سکتے۔ ویب سائیٹ کی تیاری کوئی ایسا مشکل مرحلہ نہیں جس کے لئے 17 سال درکار ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ یونیورسٹی کے قیام کی سلور جوبلی تک شائد اردو ویب سائیٹ کا کام جاری رہے گا۔
اسی دوران ممتاز کیریئر کونسلر ایم اے حمید نے اردو یونیورسٹی کی موجودہ صورتحال کو افسوسناک قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی اپنے قیام کے مقاصد میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ قومی یونیورسٹی ہونے کے باوجود یو جی سی ، اے آئی سی ٹی ای اور دیگر قومی کونسلس کی شرائط کی تکمیل سے یونیورسٹی قاصر ہے۔ کئی کورسس کو قومی اداروں سے مسلمہ حیثیت حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں سے یونیورسٹی بی اے ، بی کام جیسے ڈگری کورسس میں داخلوں کا اعلامیہ جاری کرنے کے موقف میں نہیں ہیں کیونکہ ان کورسس کو قومی اداروں کی منظوری حاصل نہیں۔ ایم اے حمید نے کہا کہ اردو یونیورسٹی غیر مسلمہ اور غیر معیاری کورسس کے ذریعہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے موجودہ کورسس محض ضابطہ کی تکمیل اور یونیورسٹی کی بقاء کی حد تک محدود ہیں۔