اردو کی دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے عمل آوری کے اقدامات

صدرنشین اقلیتی کمیشن محمد قمرالدین کی ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور سے مشاورت
حیدرآباد۔12 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اردو زبان کی بحیثیت دوسری سرکاری زبان استعمال کے سلسلہ میں اقلیتی کمیشن نے سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور سے مشاورت کی ہے۔ حکومت کے احکامات کے مطابق تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے لیکن سرکاری محکمہ جات میں موثر عمل آوری کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں کمیشن کو موصولہ نمائندگیوں کا جائزہ لیتے ہوئے صدرنشین محمد قمرالدین نے سکریٹری ڈائرکٹر پروفیسر ایس اے شکور کو مشاورت کے لیے مدعو کیا۔ پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ اردو اکیڈیمی میں سکریٹری اقلیتی بہبود کے ذریعہ تمام محکمہ جات کو اس سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط جاری کیے ہیں۔ سرکاری دفاتر کے سائن بورڈ اور عہدیداروں کے نیم پلیٹ اردو زبان میں تحریر کرنے کی ہدایت دی گئی۔ سکریٹریٹ اور دیگر مقامات پر نیم پلیٹ پر اردو کو شامل کیا گیا جبکہ سرکاری دفاتر کے سائن بورڈس پر اردو کی شمولیت باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں کمیشن کو بھی حکومت سے نمائندگی کرنی چاہئے۔ صدرنشین محمد قمرالدین نے کہا کہ وہ بہت جلد اس سلسلہ میں چیف سکریٹری اور سکریٹری اقلیتی بہبود سے نمائندگی کرتے ہوئے توجہ مبذول کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے اردو دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے تلنگانہ کے تمام اضلاع میں دوسری سرکاری زبان کا موقف دیا ہے۔ محکمہ جات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر عمل کریں۔ پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ حکومت نے پہلے قدم کے طور پر ہر محکمہ میں اردو آفیسرس کے تقررات عمل میں لائے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری محکمہ جات میں تقررات سے متعلق تمام امتحانات اردو زبان میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت اردو کے سرکاری طور پر استعمال میں سنجیدہ ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اردو اکیڈیمی اور اقلیتی کمیشن باہم اشتراک سے اردو زبان کے فروغ کے لیے اقدامات کریں گے۔