عام آدمی کی خاص بات
اردو کی خدمت گذار ۔ ودیاوتی
حیدرآباد ۔ 17 ۔ فروری : ( نمائندہ خصوصی ) : اردو زبان کی مٹھاس نے اپنے آغاز سے ہی ہر کسی کو متاثر کیا ہے ، چاہے وہ رحیمہ بیگم ہو ، رنجیت کور ہو یا لکشمی دیوی یا کوئی اور جس کسی نے اس زبان کو کسی مذہب سے جوڑ کر دیکھنے کی بجائے محض ’’ زبان ‘‘ کی حیثیت سے دیکھا وہ اس کا گرویدہ ہوگیا ۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک معزز خاتون ودیاوتی بھی ہیں جنہیں ان کے جاننے والے اگر ’ چلتی پھرتی اردو ‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ آج ہم عام آدمی کی خاص بات کالم میں ان کا تعارف کراتے ہیں جو خود اردو داں افراد کے لیے ایک سبق ہے ۔ محترمہ ودیاوتی فی الوقت سلطان بازار اردو میڈیم گرلز اسکول کی ہیڈ مسٹریس ہیں ۔ یہ اسکول 1950 میں قائم ہوا تھا ۔ ودیاوتی نے نمائندہ سیاست سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد بجرنگ پرساد اردو میڈیم اسکول کے ہی ٹیچر تھے اور ایک بہترین شاعر بھی تھے ۔ ان کا تخلص ’’شاہین ‘‘ تھا ۔ ہماری خواہش پر انہوں نے اپنے والد بجرنگ پرساد کی ایک رباعی سنائی جو مجھے بہت پسند آئی ۔ امید ہے آپ بھی پسند فرمائیں گے ۔ تو لیجئے آپ بھی پڑھئے :
ہر زاویے سے وقت کے سانچے میں ڈھل گیا
دنیا وہی ہے آج بھی ، انساں بدل گیا
وہ بھی تھا وقت جب یہ زمانہ تھا میرے ساتھ
یہ بھی ہے وقت جب مجھ سے زمانہ بدل گیا
ایسے بہت سارے بامعنے اور پر مغز اشعار بجرنگ صاحب نے کہے ہیں لیکن فی الوقت ہم یہاں ودیاوتی کے حوالے سے بات کررہے تھے لہذا ہم نے ایک اور سوال کیا تو انہوں نے بتایا کہ چونکہ ان کے والد بھی اردو میڈیم اسکول کے ہی ٹیچر تھے ۔ اور انہیں زبان اردو سے کافی لگاؤ تھا ۔ لہذا انہوں نے دونوں بیٹیوں کو ( بشمول ودیا وتی ) کو اردو میڈیم سے تعلیم دلائی ۔ ودیا وتی نے فرسٹ سے لے کر دسویں جماعت تک سٹی ہائی اسکول اردو میڈیم کوٹلہ عالیجاہ میں تعلیم حاصل کی ۔ حسینی علم کالج سے انٹر کیا اور پھر انوارالعلوم کالج سے ڈگری کی تکمیل کی ۔ اس کے بعد ٹی ٹی سی اور بی ایڈ بھی مکمل کیا ۔ خوش قسمتی سے دوران ٹریننگ ہی انہیں سرکاری ملازمت مل گئی ۔ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا اہل اردو کے ساتھ ہے اور ان کی تمام سہیلیاں مسلمان ہیں ۔ اس لیے ان کا رہن سہن اور طرز زندگی مسلم خواتین کی طرح ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب سے انہوں نے ہوش سنبھالا ہے ۔ روزنامہ سیاست کا ہی مطالعہ کرتی ہیں اور آج بھی یہ روایت برقرار ہے ۔ اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے بتایا کہ انہیں تین لڑکے ہیں دو انجینئر ہیں ۔ تیسرا عمان ایرلائنس میں اعلی عہدے پر فائز ہے ۔ اسی اسکول کے دیگر ٹیچر اور طالبات نے بتایا کہ ان کی ہمیشہ فکر رہتی ہے اردو زندہ رہے اور اسی لیے وہ اپنے آس پاس اور دیگر لوگوں سے مل کر سرپرستوں سے خواہش کرتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اردو میڈیم سے تعلیم دلوائیں ۔ مگر یہ ایک المیہ ہے کہ 65 سال سے قائم مذکورہ اردو میڈیم اسکول میں صرف 32 طالبات زیر تعلیم ہیں ۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ کاروباری علاقے میں ہے اور دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ لوگ اردو میڈیم میں اپنے بچوں کو پڑھانا نہیں چاہتے جو یقینا ایک تشویشناک پہلو ہے جس پر اہل اردو کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔ واضح رہے کہ محترمہ ودیا وتی نہ صرف زبان اردو کی آبیاری میں مصروف ہیں بلکہ اپنے اسکول میں شجر کاری پر بھی بھر پور توجہ دیتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ایس ایس سی طالبات کے لیے خصوصی کلاسیس کا اہتمام کرتی ہیں تاکہ یہ طالبات اچھے نمبرات سے کامیاب ہوں ۔ کاش ایسے جذبات ہر اسکول ٹیچر میں ہوں تو طلباء کی زندگی سنور جائے ۔۔