نئی دہلی۔/20مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) فیروز بخت احمد نے کہا کہ اردو کو اکثر 1947ء کی تقسیم کی ذمہ دار سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس زبان نے ہندوستان کو متحد رکھا تھا۔ وہ تین روزہ جشن ریختہ میں خطاب کررہے تھے جو دہلی کے انڈیا انٹر نیشنل سنٹر پر منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج اردو کا جشن منایا جارہا ہے جس میں داستان گوئی، مشاعرہ، قوالی، غزل سرائی، بیت بازی اور تبادلہ خیال کی نشستیں شامل ہیں۔ ان میں اردو کے کئی شیدائی جیسے انتظار حسین، جاوید اختر، گوپی چند نارنگ، ضیاء محی الدین، وسیم بریلوی، ندا فاضلی، آصف فروخی ( لاہور کے مصنف ) اجمل کمال، ضیاء السلام، شمیم حنفی، اشوک واجپائی، رانا سروی، سی ایم نعیم، سعید عالم اور اردو دنیا کی کئی دیگر اہم شخصیات نے حصہ لیا۔ شفیع قدوائی نے جشن ریختہ کو اردو کے جذبہ کا جشن قرار دیا جو ہر ایک اخلاقی حد اور تخلیقی کردار کو اپنے میں سموئے ہوئے ہے۔ سنجوصراف نے کہا کہ جشن ریختہ عالم اردو کے مشاہدہ کا ایک پلیٹ فارم ہے جس میں ہم اردو زبان کے اساتذہ سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ اردو کے ایک اور شیدائی کیدار ناتھ سنگھ نے کہا کہ ان کے خیال میں دنیا تیزی سے ترقی کررہی ہے اور اس میں وہی زبان اپنی بقاء منواسکتی ہے جس کا اپنے قارئین سے مستحکم رابطہ قائم ہو اور اردو اپنی ابتداء ہی سے عوام کی زبان رہی ہے اور یہی اس کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ فرحت احساس نے جو ریختہ کے شاعر ہیں کہا کہ اس جشن کا مقصد بڑے تعلیمی اور ہندوستانی ادبی اداروں کو ترغیب دینا ہے۔ سوختہ پال کمار نے کہا کہ اردو کی چیرس برطانیہ میں کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹیوں میں قائم ہیں۔ برطانیہ کے علاوہ امریکی یونیورسٹیوں میں بھی اردو کی چیر قائم کی گئی ہے۔ اردو کے ایک اور شیدائی روش کمار نے نشاندہی کی کہ غیر اردو داں افراد بھی اردو شاعری سن کر پرجوش ہوجاتے ہیں اور یہی اردو کا جادو ہے جو ہر ایک کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔جشن ریختہ کامیاب طور پر اختتام پذیر ہوا جس میں اردو کو مختلف انداز میں جیسے بیت بازی، غزل گلوکاری اور قوالیوں کے ذریعہ پیش کیا گیا۔