عربی اور انگریزی سیکھنے میں آسان لیکن شوق ضروری ، آئی ایچ آر او مغربی آفریقہ کے سربراہ ایم اے نجیب سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 9 ۔ جون : اردو میڈیم کے طلباء و طالبات اکثر اس احساس کمتری میں مبتلا رہتے ہیں کہ ان کا ذریعہ تعلیم اردو ہے اور کبھی ہندوستان کی سرکاری زبان بنتے بنتے رہ جانے والی اس زبان کو جان بوجھ کر روزگار کی زبان بننے سے روکا گیا لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو سیکھنے اور پڑھنے لکھنے کا شوق جستجو طلبہ میں پیدا ہوجائے تو وہ عربی ہندی تلگو اور انگریزی پر عبور حاصل کرتے ہوئے اپنے لیے ترقی کی راہیں خود ہی کھول لیتے ہیں ۔ ہر زبان ہر فن سیکھنے کے لیے جذبہ اور جنون کی حد تک شوق ضروری ہے تب ہی ایک اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم بھی معیاری انگریزی بول سکتا ہے ۔ کلاسیکی عربی میں نہ صرف بات کرسکتا ہے بلکہ اس زبان میں بآسانی اپنے خیالات کو قلمبند بھی کرسکتا ہے ۔ قارئین آج ہم آپ کو ایک ایسے نوجوان سے ملاتے ہیں جنہوں نے اردو میڈیم تک ہائی اسکول کی تعلیم حاصل کی چونکہ عربی اور انگریزی سیکھنے کا ان پر جنون سوار تھا اس لیے قدرت نے انہیں ان دونوں زبانوں پر مہارت عطا کردی ۔ آج اپنی اسی خوبی کے باعث یہ حیدرآبادی نوجوان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن IHRO کے سربراہ برائے مغربی آفریقہ کے باوقار عہدہ پر فائز ہے اور فی الوقت نائجیریائی دارالحکومت ابوجہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ جناب محمد عبدالنجیب ( M.A.Najeeb ) سے راقم الحروف نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بات کی تاکہ نوجوان نسل بالخصوص اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کررہے طلباء و طالبات کو یہ بتایا جائے کہ کوئی زبان مشکل نہیں ہے اگر آپ میں سیکھنے کا شوق اور جذبہ موجود ہو تو بڑی آسانی کے ساتھ ہر زبان سیکھ سکتے ہیں ۔ ایم اے نجیب نے جو تقریباً چار برسوں سے اس آفریقی ملک میں تعینات ہیں ۔ بتایا کہ ان کا تعلق پرانا شہر کے کشن باغ علاقہ سے ہے ۔ ان کے والد محمد عبدالحمید پٹیل مرحوم محکمہ جنگلات میں صیغہ دار ( سیکشن آفیسر ) کے عہدہ پر فائز تھے ۔ اردو ذریعہ تعلیم پر فخر کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ 5 بھائی اور ان کی 5 بہنیں ہیں اور تمام نے تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کی ۔ خود انہیں این ٹی راما راؤ کے دور میں قائم کردہ آندھرا پردیش کے پہلے اردو اقامتی اسکول قلی قطب شاہ ریسیڈنشیل اردو ہائی اسکول سے ایس ایس سی کامیاب کرنے کا اعزاز حاصل ہے اور وہ اس اسکول کے پہلے ایس ایس سی بیاچ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کشن باغ سے سعودی عرب اور پھر نائجیریا تک اپنے طویل سفر کے بارے میں ایم اے نجیب نے بتایا کہ انوارالعلوم کالج سے بی کام کے بعد روزگار کی تلاش میں سعودی عرب روانہ ہوئے جہاں برطانوی کمپنی یونی لیور UNILEVER میں اچھی ملازمت حاصل ہوگئی ۔ اس سے قبل وہ حیدرآباد میں ہی میڈیکل ریپرزینٹیٹیو کی حیثیت سے کام کررہے تھے ۔ یونی لیور میں ملازمت کے دوران کیلیفورنیا یونیورسٹی سے کمیونیکیشن اینڈ لیڈر شپ میں بیچلر ڈگری حاصل کی ۔ ساتھ ہی انگریزی زبان پر مہارت حاصل کرلی ۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ انہیں ریجنل مینجر کے عہدہ پر ترقی دی گئی ۔ انگریزی زبان پر عبور کے بارے میں سوال پر انہوں نے بتایا کہ وہ ہر روز کم از کم تین گھنٹے انگریزی خبریں اور دیگر پروگرامس سنا کرتے تھے کیوں کہ انہیں اس بات کا اچھی طرح اندازہ تھا کہ کوئی بھی زبان سیکھنے کے لیے سننا یعنی سماعت بہت ضروری ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شیر خوار بچے بھی اپنے ماں باپ بھائی بہنوں اور رشتہ داروں کی باتیں سن کر بات کرنا سیکھ جاتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سماجی ، ادبی و ثقافتی سرگرمیوں سے انہیں خاصی دلچسپی رہی ہے ۔ چنانچہ سعودی عرب میں وہ انڈیا فورم تنظیم ہم ہندوستانی اے پی سوسائٹی جیسی تنظیموں سے وابستہ رہے ۔ دوران ملازمت انہیں قطر ، بحرین ، لبنان ، کویت ، متحدہ عرب امارات اور سری لنکا جیسے ممالک میں بھی قیام کا موقع ملا ۔ حیدرآباد واپسی پر دہلی پبلک اسکول پرائیوٹ لمیٹیڈ میں سرمایہ کاری کی اور اس کے سی ای او مقرر ہوئے بعد میں طلبہ کو پرسنالیٹی ڈیولپمنٹ اینڈ کمیونیکیشن اسکلس لیڈر شپ اور کال سنٹر کی تربیت دینے کا آغاز کیا ۔ روزنامہ سیاست کے زیر اہتمام بھی انہو ںنے مسلم اقلیتی طلبہ کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنے انہیں کال سنٹرس میں ملازمتیں حاصل کرنے میں مدد کے لیے متعدد لکچرس بھی دئیے ۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے بارے میں جناب ایم اے نجیب نے بتایا کہ یہ تنظیم کا اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل بار اسوسی ایشن IBA سے الحاق ہے اور آفریقی ممالک میں غربت ناخواندگی ، بیماریوں ، لڑائی جھگڑوں کے انسداد کے لیے کام کررہی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سب سے پہلے انہیں IHRO کا نائجیریا میں مبصر بنایا گیا اور پھر حال ہی میں ڈائرکٹر جنرل کے عہدہ پر فائز کیا گیا ۔ اس طرح وہ جملہ 16 مغربی آفریقی ممالک بشمول نائجیریا ، بنین ، برکینا فاسو ، کیپ ورڈی ، گامبیا ، گھانا ، آئوری کوسٹ ، مالی ، لائبریا ، ماریطانیہ ، نائجیر ، سینگال ، سیرالیون ٹوگو اور گینی جیسے ممالک میں انٹریشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے نگران ہیں ۔ ایم اے نجیب نے بتایا کہ نائجیریا میں بوکو حرام نے حال ہی میں اسکولی لڑکیوں کا اغواء کیا اور اس گروپ سے تمام بڑی طاقتوں میں ایک قسم کی دہشت ہے اس گروپ کے پاس عصری ہتھیار اور ہیلی کاپٹرس تک ہیں ایسے میں لگتا ہے کہ کوئی بڑی طاقت اس گروپ کی پشت پناہی کررہی ہے ۔ جناب نجیب نے بتایا کہ انہوں نے نائجریائی وزراء گورنروں وغیرہ سے ملاقات کے دوران واضح طور پر کہا کہ دین اسلام امن کا درس دیتا ہے ۔ اس میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ IHRO نائجیریا نے مختلف شعبوں میں طلبہ کو ٹکنیکی کورس کی تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کے لیے حیدرآباد سے بھی 8 اساتذہ ، لکچررس کو لے جایا جارہا ہے ۔ خاص طور پر نائجیریائی بچوں کو کمپیوٹر کورس سکھائے جائیں گے ۔ جملہ 100 ٹریڈس کی تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مغربی آفریقی ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاہم غربت بہت زیادہ پائی جاتی ہے ۔ نائجیریا میں مسلمان ، ہاوسن ، نامی زبان بولتے ہیں جس میں عربی کے الفاظ بہت زیادہ ہیں ۔ سیاست اور ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کی ملی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست اور ایڈیٹر سیاست نے ملت میں تعلیمی انقلاب برپا کرنے کی قابل ستائش کوشش کی ہے ۔ مظلوموں کی مدد بھی اس ادارہ سے کی جاتی ہے ۔ طلبہ کے نام پیام میں انہوں نے کہا کہ طلبہ کو احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ان میں کچھ کرنے کچھ سیکھنے کا جذبہ ہو تو وہ ہر شعبہ میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ماں باپ کی دعائیں بھی ضروری ہیں ۔۔
mriyaz2002@yahoo.com