مسلمانوں کے ساتھ ہر شعبہ حیات میں انصاف ضروری : پروفیسر کودنڈا رام
حیدرآباد۔13مارچ(سیاست نیوز) متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں پسماندگی کاشکار طبقات کے ساتھ ہوئے استحصال پر اظہار خیا ل کرتے ہوئے صدرنشین تلنگانہ پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈارام نے اُردوداں طبقہ کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کو قابلِ افسوس قراردیا۔ مسٹر کودنڈارام نے کہاکہ اُردو زبان کو مذہب کے ساتھ جوڑ کر اُردو داں طبقہ کا عرصہ حیات تنگ کردیا گیا جبکہ اُردوکسی ایک مذہب یافردکی زبان نہیں ہے انہوں نے مزید کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام سے قبل علاقہ تلنگانہ میںاُردو زبان کا بول بالا تھا اور اُردو داں طبقہ میںنہ صرف مسلمانوں کو شمار کیا جاتا تھا بلکہ غیر مسلم افراد کی بھی اکثریت اُردو داں طبقہ کہلاتی تھی مگر متحدہ ریاست آندھرا پردیش قائم ہونے کے بعد اُردو زبان کو بنیاد بناکرعلاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں کو روزگار سے محروم کرنے اور ان کی معیشت کو کمزور کرنے کاکام کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ آصف جاہی دور حکومت میںقائم کردہ صنعتی ادارے جن کی ایک طویل فہرست ہے جنھیں منظم انداز میںآندھرائی حکمرانوں نے بند کردیا جس کے سبب تقریباً بیس ہزار مسلمان روزگارسے محروم ہوگئے۔انہوں نے متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے حکمرانوں کی جانب سے تلنگانہ کے مسلمانوں بشمول پسماندگی کاشکار ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی طبقات کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہاکہ آصف جاہی دور میں قائم کردہ چھوٹی صنعتوں کو بھی آندھرائی حکمرانوں نے منظم انداز میں تباہی کے دہانے پر پہنچادیا۔انہوں نے پرانے شہر میںچوڑیوں کی تیار ی کے کاروبار‘ کارچوب‘ زری ورک‘ چاندی کا ورق کی تیار ی جیسے تہذیبی ورثہ کی حفاظت میں بھی آندھرائی حکمرانوں کوناکام قراردیتے ہوئے کہاکہ مقامی لوگوں نے نہایت کسم پرسی کے باوجودمذکورہ چھوٹی صنعتوں کو اپنے ذاتی صرفے سے زندہ رکھنے کاکام کیا ہے۔متحدہ ریاست آندھرا پردیش میںمسلمانوں کی معیشت کو مزید کمزور بنانے کے لئے مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لئے وقف کردہ اراضیات جنھیں اوقافی املاک کہاجاتا ہے
پر بھی آندھرائی حکمران اورسرمائے دار غاصبانہ قابض ہوئے۔ انہوں نے منی کنڈہ جاگیر کی اس موقع پر مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایک وقف اراضی سے ہزاروں کروڑ کا منافع حاصل کرنے والے آندھرائی قائدین اور سرمائے داروں نے تلنگانہ کی دیگر وقف اور صرفخاص اراضیات کو اپنی ذاتی جائیدادوں میں تبدیل کردیا جس کاراست اثر مسلمانوں کی ترقی پر بھی پڑا۔صدرنشین تلنگانہ پولیٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈاارام نے متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے اقلیتی بہبوداداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہوئے کہاکہ اقلیتی فلاح وبہبود کے نام پر حکومت کی جانب سے بجٹ کی تو اجرائی عمل میںآتی ہے مگر بجٹ کی اجرائی کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے میںآندھرائی حکمرانوں نے کبھی بھی سنجیدہ رویہ اختیار نہیںکیا۔پروفیسر کودنڈارام نے متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے قیام سے قبل کے واقعات کا اعادہ کرنے والے مورخین پر بھی مسلم حکمرانوں اور علاقہ تلنگانہ کے مسلمانو ں کی شبیہہ کو بگاڑنے کا بھی ذمہ دارٹھہرایا۔ مسٹر کودنڈارام نے مجوزہ ریاست تلنگانہ میں ایسے کسی بھی استحصال اور ناانصافی کو روکنے کے لئے تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ سنہری تلنگانہ کے قیام اور نئی ریاست میںسماج کے پسماندہ تمام طبقات کو مساوی حقوق فراہم کرنے کے واسطے تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ایک ویژن دستاویز تیار کیا جارہا ہے
جس میںعلاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں کی فلاح وبہبود اورترقی پر خصوصی توجہہ دی گئی ہے انہوں نے مزیدکہاکہ تعلیم اور ملازمت میںمسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی لازمی ہے۔ پروفیسرکودنڈارام نے مزید کہاکہ مسلمانوں کو زندگی کے تمام شعبوں میں آبادی کے تناسب سے نمائندگی کا مواقع فراہم کرنے کیلئے علاقائی اور قومی جماعتوں پر عائد ذمہ داریوں کی جانب تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی توجہہ مبذول کروائے گی ۔ پروفیسرکودنڈارام نے علاقہ تلنگانہ کی سیول سوسائٹی کو بھی سماجی انصاف اور سیکولرازم کو ہونے والے نقصان کے خدشات سے مقابلے کے لئے متحرک ہونے کی ضرورت پر زوردیا۔