29 جائیدادوں کی عام زمرہ میں منتقلی، حکومت عدالت کے فیصلے کی پابند
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جولائی (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود میں 66 اردو آفیسرس کے تقررات کے سلسلہ میں حکومت کو روسٹر سسٹم پر عمل آوری کے طریقہ کار کے سلسلہ میں عدالت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ حکومت نے اردو آفیسرس کے تقرر کے سلسلہ میں اگرچہ روسٹر سسٹم کے تحت تحفظات کے نظام پر عمل کیا لیکن اس کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ مروجہ طریقہ کار کے خلاف ہے۔ حکومت نے محفوظ زمرہ کی 29 جائیدادوں کو محض ایک جی او کے ذریعہ عام زمرہ میں تبدیل کردیا ۔ حالانکہ طریقہ کار کے مطابق حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ محفوظ زمرہ جات میں امیدواروں کی عدم دستیابی کی صورت میں دو مرتبہ ان عہدوں کو نوٹیفائی کرے۔ اگر دونوں مرتبہ محفوظ زمرہ جات کے تحت امیدوار دستیاب نہ ہوں تو تیسری مرتبہ ان نشستوں کو عام زمرہ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ تقررات کے سلسلہ میں جب چیف منسٹر کی سطح پر مشاورت جاری تھی تو بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے عہدیداروں سے کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی اور دیگر محفوظ زمرہ جات میں اردو جائیدادوں کیلئے امیدواروں کی دستیابی ممکن نہیں ہے، لہذا سرکاری احکامات کے تحت ان جائیدادوں کو عام زمرہ میں منتقل کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ قانونی مشاورت کے بعد چیف منسٹر کی منظوری سے جی او 44 جاری کیا گیا جس کے تحت ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ڈی اور ٹیکس سرویس مین کی 29 جائیدادوں کو عام زمرہ میں منتقل کردیا گیا ۔ روسٹر سسٹم کے اعتبار سے ایس سی کیلئے 15 ، ایس ٹی کیلئے 6 ، بی سی اے 10 ، بی سی بی 10 ، بی سی سی 1 اور بی سی ڈی کے تحت7 فیصد نشستیں مختص کی گئیں لیکن جن زمرہ جات میں امیدوار دستیاب نہیں ہوئے ان نشستوں کو عام زمرہ میں منتقل کرتے ہوئے پر کیا گیا ۔ گریڈ II زمرہ کی 60 جائیدادوں میں رول آف ریزرویشن کے تحت جن زمرہ جات میں ایک بھی تقرر نہیں کیا گیا ، ان میں ایس سی جنرل ، ایس سی ویمن ، ایس ٹی جنرل ، ایس ٹی ویمن ، بی سی اے ، بی سی اے ویمن ، بی سی سی جنرل زمرہ جات شامل ہیں۔ جن امیدواروں نے تقررات کے طریقہ کار کے خلاف ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے ، اگر مباحث کے دوران رول آف ریزرویشن پر عمل آوری کا جائزہ لیا جائے تو ہائیکورٹ سے حکومت کے خلاف فیصلہ کا امکان ہے۔ تاہم جن امور پر درخواستیں داخل کی گئیں ان میں روسٹر سسٹم کی خلاف ورزی کی شکایت نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایس سی زمرہ میں چار امیدواروں نے درخواستیں داخل کیں لیکن ان میں کوئی بھی کوالیفائی نہیں ہوسکا۔ تین امیدوار ایسے تھے جنہوں نے بی سی سی زمرہ میں درخواست داخل کی۔ ایک امیدوار نے بی سی سی کے بجائے بی سی ای کا سرٹیفکٹ داخل کیا ۔ لہذا وہ قابل قبول نہیں تھا ۔ دوسرے امیدوار کے پاس معذورین کا سرٹیفکٹ تو موجود تھا لیکن اس پر ’’ناٹ فار ایمپلائمنٹ‘‘ کا اسٹامپ تھا ، لہذا اس سلسلہ میں میڈیکل بورڈ سے وضاحت طلب کی جارہی ہے۔ معذورین کے زمرہ میں ایک خاتون امیدوار کو گریڈ I اور گریڈ II دونوں میں منتخب قرار دیا گیا لیکن وہ مذکورہ عہدوں پر خدمات انجام دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اسی دوران حکومت نے عدالت میں زیر دوران مقدمہ کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ ہائی کورٹ سے جو بھی احکامات موصول ہوں گے ان پر عمل کیا جائے گا ۔ ضرورت پڑنے پر حکومت 29 نئی جائیدادوں کو نوٹیفائی کرسکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے روسٹر سسٹم پر عمل آوری کے سلسلہ میں عدالت میں تفصیلی وضاحتی نوٹ داخل کیا گیا ہے۔