استنبول ۔ 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کی دوسروں کو سادگی کی تلقین سر آنکھوں پر مگر ان کے اپنے عالی شان نئے صدارتی محل کی تزئیں و آرائش پر لاکھوں ڈالر کے اخراجات کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ محل کی سیکیورٹی پر 50 ملین ترکی لیرہ (20 ملین ڈالر) کی رقم پھونکی گئی ہے۔ترک اخبار ’’ملت‘‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صدر طیب اردوغان کا نیا صدارتی محل غیر قانونی طریقے سے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ محل اتاترک کے قائم کردہ فارم ہاوز اور جنگلات کو کاٹ کر تعمیر کیا گیا ہے۔ محل کی سیکیورٹی کے لیے اس کے آس پاس 3000 خفیہ کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ترکی میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات کرنے والے ادارے کے لیے صرف چار ملین لیرا کا بجٹ فراہم کیا گیا ہے جبکہ صدر کے شاہی محل کی صرف حفاظت اور سیکیورٹی کے لیے 50 ملین لیرا کی رکھی گئی ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے دور میں بنائے گیے صدارتی محل کی موجودگی کے بعد کسی نئے شاہی محل کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہ محل بھی قومی خزانے سے بنایا گیا ہے۔