بیروت ۔ 7 فبروری( سیاست ڈاٹ کام ) اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے انتہا پسندوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس گروپ کی طرف سے یرغمال بنائے رکھی گئی ایک امریکی خاتون ‘ شمالی شام پر اردن کے فضائی حملوں کے نتیجہ میں ہلاک ہوگئی ۔ تاہم حکومت اردن نے اس دعویٰ کو ایک مجرمانہ پروپگنڈہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اس خبر کی صداقت کی توثیق کے لئے کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہوا ہے ۔
اس دوران امریکی خاتون کے والدین نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ان کی بیٹی ہنوز زندہ ہے ۔ داعش کی یرغمالی یہ امریکی خاندان جس کی شناخت کائیلا جین ملر کی حیثیت سے کی گئی ہے ‘ مصیبت زدہ شامی عوام کو امداد پہنچانے کے کاموں میں مدد کیلئے گئی ہوئی تھی جس کی ہلاکت سے متعلق عسکریت پسندوں کے دعوؤں کی کوئی توثیق نہیں ہوئی ہے ۔ تاہم عسکریت پسندوں کے ایک ویب سائیٹ پر پوسٹ کردہ بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے ۔ یہ ویب اکثر داعش گروپ استعمال کیا کرتا ہے جہاں جاری کردہ خبر کو داعش سے ملحق ٹوئیٹر کے استعمال کنندگان نے دوسروں تک پہنچایا ہے۔ 26سالہ ملر کا تعلق پریس کاٹ ایریزونا سے ہے ۔ ملر واحد بے قصور امریکی یرغمالی ہے جو فی الحال داعش کے قبضہ میں ہے ۔ 2007ء کے ایک اخباری مضمون کے مطابق ملر جو شمالی ایریزونا یونیورسٹی کی ایک طالبہ ہے ‘ دارفور بچاؤ اتحاد میں بھی سرگرم رہی ہے ۔ سنیٹر جان مک کین کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ملر نے 2009ء میں گریجویشن کی تکمیل کی اور ایریزونا کے علاوہ فلسطین‘ اسرائیل اورہندوستان میں بھی ضرورتمند عوام کو مدد پنچانے کے کاموں میں حصہ لیا تھا ۔ اوباما نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ ملر کی تلاش کیلئے امریکہ اپنے تمام وسائل کو متحرک کردیا ہے ۔