حیدرآباد 26 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کے 10 اضلاع میں موجود اوقافی، سرکاری، ہندو اوقاف اور دیگر اراضیات پر قبضوں کی برخاستگی کیلئے ہاؤز کمیٹی کی تشکیل کو اسمبلی نے منظوری دی۔ اسپیکر اسمبلی مسٹر مدھو سدن چاری نے آج ایوان میں اعلان کیاکہ حکومت کی جانب سے اراضیات پر قبضوں کی برخاستگی کے لئے ہاؤز کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور قابضین کے خلاف کارروائی میں کوئی پس و پیش نہیں کیا جائے گا۔ ہاؤز کمیٹی کے دیگر اُمور کی جلد از جلد تکمیل کردی جائے گی۔ ایوان میں سرکاری اراضیات پر قبضوں کے متعلق گرما گرم مباحث کے دوران چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے ریاست بھر میں موجود ایک لاکھ 90 ہزار ایکر اراضیات پر قبضوں کی برخاستگی اور واپس حصول کے اقدامات کے لئے ہاؤز کمیٹی کا منصوبہ پیش کیا جسے تمام سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل ہوئی۔ اُنھوں نے بتایا کہ اوقافی اراضیات کے تحفظ و صحیح استعمال کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے بہت جلد علماء و مشائخین کے علاوہ سیاسی قائدین کا اجلاس بھی طلب کیا جائے گا۔ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے مباحث کے دوران بتایا کہ قوانین کی خلاف ورزی کے ذریعہ ایک لاکھ90 ہزار ایکر اراضیات پر ناجائز قبضے ہیں جنھیں برخاست کروایا جانا ضروری ہے۔ اُنھوں نے ہاؤز کمیٹی کی سفارشات کو روبہ عمل لاتے ہوئے قابضین کے خلاف کارروائی اور جلد از جلد اراضیات کے حصول کو یقینی بنانے کا تیقن دیتے ہوئے اسپیکر کو حکومت کے فیصلہ سے واقف کروایا۔
چیف منسٹر تلنگانہ نے ایوان سے خطاب کے دوران بتایا کہ نہ صرف سرکاری جائیدادوں پر ناجائز قبضے ہیں بلکہ انڈومنٹ، منادر، چرچ کے علاوہ اوقافی جائیدادوں پر بھی قبضے کئے گئے ہیں۔ اِن تمام قبضہ جات کی برخاستگی کے لئے حکومت ایوان کی کمیٹی کی تشکیل کے لئے تیار ہے۔ چیف منسٹر نے ریاست میں جائیدادوں پر ناجائز قبضہ جات کے متعلق ایوان کمیٹی کی تشکیل کا اعلان مسٹر پنالہ لکشمیا صدر پردیش تلنگانہ کانگریس کمیٹی کی جانب سے دلتوں کی اراضیات ہڑپنے کے الزامات پر جاری مباحث کے دوران کیا۔ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی جانب سے ہاؤز کمیٹی کی تشکیل کے منصوبہ کی دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے تائید کی گئی اور ہاؤز کمیٹی کی سفارشات کو قابل عمل بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ڈاکٹر کے لکشمن قائد ایوان مقننہ (بی جے پی) نے حکومت کی جانب سے ایوان کمیٹی کی تشکیل کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست میں اوقافی جائیدادوں کے ساتھ مندروں اور سرکاری اراضیات پر قبضے جات کی تنقیح کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ اکبراویسی نے حکومت کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ ہاؤز کمیٹی کے تنقیحی عمل و رپورٹ کی تیاری کے لئے وقت معین کیا جانا چاہئے۔ مسٹر ای دیاکر راؤ تلگودیشم نے بھی حکومت کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے سفارشات کو قابل عمل بنانے پر زور دیا۔
مسٹر جانا ریڈی قائد اپوزیشن نے حکومت کے فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو تمام جائیدادوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ انھوں نے سرکاری اراضیات کے علاوہ پسماندہ طبقات کے حوالہ کردہ اراضیات کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر مکمل تعاون کا تیقن دیا۔ مباحث کے دوران وزیر اُمور مقننہ مسٹر پی ہریش راؤ نے بتایا کہ صدر پردیش کانگریس تلنگانہ مسٹر پنالہ لکشمیا نے مبینہ طور پر دلتوں کو حوالہ کردہ 8 ایکر اراضی قبضہ کی ہے اور اِس سلسلہ میں کانگریس کے دور حکومت میں احکامات بھی جاری کئے گئے تھے جو کہ قوانین کے خلاف ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سابقہ حکومت نے پسماندہ طبقات کی اراضیات کے متعلق قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے ضلع ورنگل میں واقع اِس اراضی کو پنالہ لکشمیا کے حوالہ کرنے کے لئے سرکاری طور پر احکام جاری کئے۔