ادیب وشعراء کو سماجی مسائل اوربرائیوں کو تخلیقات کے ذریعہ اُجاگر کرنے کا مشورہ

دفتر سیاست میں ’’آواز کا لَمس‘‘ کی رسم اجراء، جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر ’سیاست‘ و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔/13نومبر، ( دکن نیوز) جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روز نامہ ’سیاست‘ نے اردو ادیبوں و شعراء پر زور دیا کہ وہ سماج کے سلگتے ہوئے مسائل اور سماجی برائیوں کو اپنی تخلیقات کے ذریعہ نمایاں کریں۔ شاعری دراصل مشاہدات اور احساسات کا اظہار ہے اس لئے اردو شعراء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کلام کے ذریعہ سیاستدانوں اور نام نہاد سماجی و مذہبی رہنماؤں کو بے نقاب کریں جو مختلف طریقوں سے عوام کا استحصال کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے ہندی زبان کے شعراء کی ستائش کی جن کی شاعری میں سماجی مسائل کا شعور نمایاں پایا جاتا ہے۔ جناب زاہد علی خاں کل شام نامور شاعر سید محمد وزیر آواز جلیلی مرحوم کے شعری مجموعہ ’ آواز کا لَمس ‘ کی رسم اجراء انجام دینے کے بعد گولڈن جوبلی ہال احاطہ روز نامہ ’سیاست‘ ( عابڈز ) میں ادارہ ہماری منزل کے زیر اہتمام منعقدہ ادبی اجلاس کو مخاطب کررہے تھے۔ جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف نے اجلاس کی صدارت کی۔ جناب زاہد علی خاں نے اس موقع پر کہا کہ عصر حاضر میں گل و بلبل کی شاعری ازکار رفتہ ہوگئی ہے بلکہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو بیدار کرنے والی شاعری کو بڑھاوا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جناب آواز کے دونوں فرزندان صادق نوید اور شفیع اقبال نے نہایت سعادت مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے والد محترم کے شعری ورثہ کو منظر عام پر لایا ہے اور وہ خود بھی حیدرآباد کے اچھے شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے اردو شعراء پر زور دیا کہ وہ مسلم معاشرہ میں جہیز لین دین اور اسراف جیسے موضوعات کو شاعری کا پیرہن عطاء کریں اور معاشرہ میں شعور پیدا کریں۔ عابد صدیقی نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ جناب آواز ایک قادرالکلام شاعر تھے جنہوں نے اردو شاعری کی کلاسیکی روایات کو تابندہ کیا۔ انہوں نے نہایت فنکارانہ خوبیوں کے ساتھ اپنی داخلی محسوسات اور زندگی کے تجربات کو شاعری کا رنگ و آہنگ عطا کیا ہے۔ ڈاکٹر مجید بیدار نے کہا کہ اردو شاعری نے ہمیشہ وقت کے تقاضوں کو پورا کیا ہے اور عوامی احساسات کی ترجمانی بھی کی ہے۔ مشرقی روایات کی پاسداری اور شعر و ادب کی نگہبانی کا حق ادا کیا ہے۔ انہوں نے اردو اکیڈیمی کو مشورہ دیا کہ وہ آزادی کے بعد کے شعراء ادیبوں کی شخصیات اور ادبی کارناموں پر مشتمل ایک گلاسری تیار کریں۔ صادق نوید نے جناب سید محمد وزیر آواز جلیلی کی شخصیت اور ان کی شاعری پر سیر حاصل مضمون سنایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے لیکن ان کی نظمیں بھی شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ابتداء میں شفیع اقبال چیف ایڈیٹر ماہنامہ پروانہ دکن ہماری منزل نے خیرمقدم کیا اور جلسہ کی کارروائی چلائی۔ ممتاز غزل گلوکار خان اطہر نے آواز مرحوم کی لکھی ہوئی نعت شریف سناکر جلسہ کا آغاز کیا۔ احمد صدیقی مکیش، محمد نصراللہ خان نے ادیبوں، شعراء اور معززین کا خیرمقدم کیا۔ ادبی اجلاس کے بعد محفل شعر کا اہتمام کیا گیا جناب صادق نوید نے صدارت کی۔ جناب مومن خاں شوق اور ڈاکٹر منیر الزماں منیر اور تسنیم جوہر نے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ ممتاز شاعر جناب یوسف روش نے تہنیتی قطعات پیش کئے جسے کافی پسند کیا گیا۔ پروفیسر مجید بیدار، اطیب اعجاز، یوسف روش، شفیع اقبال، تسنیم جوہر، مومن خاں شوق نے کلام سنایا اور سامعین سے خوب داد حاصل کی۔ جناب شفیع اقبال نے آخر میں شکریہ ادا کیا۔