احتجاجیوں پر گولی چلانا قانون کی خلاف ورزی

کراچی 12 مار چ (سیاست ڈاٹ کام) ایم کیو ایم نے الزام عائد کیا ہے کہ رینجرز نے نائن زیرو پر چھاپے کے خلاف احتجاج کرنے والے کارکنان پر گولی چلائی۔ پاکستان کے وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والی کارروائی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی گئی۔ادھر ایم کیوایم نے نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے اور وہاں اپنے ایک کارکن کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔رینجرز نے عزیز آباد کے علاقے میں نائن زیرو کے نام سے معروف ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر اور سکریٹریٹ پر چھاپہ مارا تھا۔اس کارروائی کے دوران حکام نے وہاں سے ’سزا یافتہ ٹارگٹ کلرز‘ کی گرفتاری اور بڑی تعداد میں غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کا دعویٰ کیا تھا۔ریڈیو پاکستان کے مطابق اس سلسلے میں اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار نے کہا کہ نائن زیرو پر چھاپہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مارا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں فوج کے ذریعے آپریشن ایم کیو ایم کا ہی مطالبہ تھا اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کرنا رینجرز اور پولیس کا استحقاق ہے۔ چودھری نثار کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ایم کیو ایم کے مرکز پر اس کارروائی کے دوران فائرنگ سے ایم کیو ایم کا ایک کارکن بھی ہلاک ہوا ہے اور ایم کیو ایم نے الزام عائد کیا ہے کہ رینجرز نے نائن زیرو پر چھاپے کے خلاف احتجاج کرنے والے کارکنان پر گولی چلائی جس کے نتیجے میں وقاص علی نامی کارکن ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔اسی سلسلے میں ایم کیو ایم کے اہم رہنماؤں پر مشتمل پانچ رکنی وفد نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے بھی ملاقات کی۔