اجمیر میں تلنگانہ بھون کیلئے ایک ایکراراضی سے اتفاق

حیدرآباد 9 فبروری (سیاست نیوز)چیف منسٹر راجستھان شریمتی وسندھراراجے نے اجمیر شریف میں تلنگانہ بھون کی تعمیر کیلئے ایک ایکر اراضی مختص کرنے سے اتفاق کرلیا ۔ انہو ںنے ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی کو تیقن دیا کہ اس سلسلہ میں جلد ہی اراضی کی نشاندہی اور الاٹمنٹ کی کارروائی مکمل کرلی جائے گی ۔ جناب محمود علی نے آج جئے پور میں چیف منسٹر راجستھان سے ملاقات کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راو کا مکتوب حوالے کیا جس میں درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے قرب و جوار میں ایک ایکر اراضی الاٹ کرنے کی خواہش کی گئی تھی۔ ڈپٹی چیف منسٹر کی چیف منسٹر راجستھان سے ملاقات کے موقع پر راجستھان کے وزیر عمارات و شوارع یونس خان اور وزیر اقلیتی امور ارون چترویدی موجود تھے۔ وسندھراراجے نے دونوں وزراء کو ذمہ داری دی کہ وہ اراضی کی نشاندہی کرتے ہوئے جلد از جلد الاٹمنٹ کو یقینی بنائیں ۔ تلنگانہ حکومت 5 کروڑ کی لاگت سے خواجہ غریب نواز تلنگانہ بھون تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تا کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے زائرین کو قیام کی سہولت حاصل ہو۔ تلنگانہ حکومت کی اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے چیف منسٹر راجستھان نے کہا کہ وہ اس تجویز کے حق میں ہیں اور جلدہی اراضی الاٹ کردی جائے گی۔ جناب محمود علی نے حیدرآباد کے نواحی علاقہ میں راجستھان حکومت کیلئے ایک ایکر اراضی الاٹ کرنے کا پیشکش کیا تا کہ راجستھان بھون تعمیر کیا جاسکے ۔ وسندھراراجے نے اس پیشکش پر اظہار تشکر کیا اورکہا کہ وہ اس سلسلہ میں وزراء اور عہدیداروں سے مشاورت کریں گی۔ جناب محمود علی نے بتایا کہ تلنگانہ حکومت نے کیرالہ حکومت کیلئے بھون کی تعمیر کے سلسلہ میں ایک ایکر اراضی الاٹ کی ہے ۔ ملاقات کے دورانوسندھراراجے نے نئی دہلی میں نیتی آیوگ کے اجلاس میں چندرا شیکھر راو سے ملاقات کا تذکرہ کیا اور ان کی اردو دانی پر حیرت ظاہر کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ تلنگانہ کا نام سنتے ہی وہ تلگو زبان کا تصور کررہی تھیںلیکن کے سی آر نے بہترین اردو میں اُن سے بات چیت کی ۔ جناب محمود علی نے تلنگانہ حکومت کے ترقیاتی اقدامات کی تفصیلات بیان کیں اور خاص طور پر غریب افراد کیلئے پنشن کی رقم میں اضافہ اور شادی مبارک اسکیم کا ذکر کیا۔ وسندھراراجے نے کہا کہ وہ تلنگانہ ریاست کی ترقی کے سلسلہ میں ٹی آر ایس حکومت کے مسائل سے واقف ہیں اور فلاحی اسکیمات سے وہ متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے دورہ حیدرآباد کی دعوت قبول کرتے ہوئے کسی موزوں موقع پر حیدرآباد آنے کا تیقن دیا۔جناب محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ اور راجستھان میں کافی یکسانیت ہے جس طرح راجستھان میں وسندھراراجے کے شاہی خاندان نے حکمرانی کی تھی اسی طرح حیدرآباد میں آصف جاہی سلطنت رہی ۔ دونوں مقامات پر تاریخی عمارتیں آج بھی اپنی تہذیب و تمدن کی مثال پیش کررہی ہیں۔ انہوں نے دونوں ریاستوں کے ثقافتی اور سیاحتی رشتوں کو مستحکم کرنے تلنگانہ حکومت کی دلچسپی سے واقف کروایا ۔ وسندرا راجے نے کہا کہ وہ مختلف شعبوں میں تلنگانہ کے ساتھ باہمی تعاون کو یقینی بنائیں گی۔ جناب محمود علی کے ہمراہ اُن کی شریک حیات اور پوترے فرقان علی موجود تھے۔ وسندھراراجے کو تاریخی چارمینار کا مومنٹو بطور تحفہ پیش کیا گیا۔ چیف منسٹر راجستھان نے جناب محمود علی اور اُن کی شریک حیات سے حیدرآبادی تہذیب اور روایات پر تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ وہ حیدرآبادی تہذیب کے بارے میں کافی سُن چکی ہیں اور متاثر بھی ہیں۔جناب محمود علی آج شام نئی دہلی روانہ ہوگئے جہاں وہ دو دن قیام کریں گے ۔ نئی دہلی میں وہ وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کرتے ہوئے پرانے شہر حیدرآباد میں پاسپورٹ آفس کے قیام کی نمائندگی کریں گے ۔ وہ حیدرآباد میں سعودی سفارتخانے کے قیام کے سلسلہ میں سعودی سفیر اور اقلیتوں کے مسائل پر مرکزی وزراء نجمہ ہپت اللہ اور مختار عباس نقوی سے ملاقات کریں گے۔ وسندھراراجے نے راجستھان میں اقلیتوں کی ترقی کیلئے حکومت کے اقدامات سے واقف کرایا ۔ وسندھراراجے وزارت میں شامل اقلیتی نمائندے یونس خان کو ٹرانسپورٹ اور پی ڈبلیو ڈی کا اہم قلمدان دیا گیا ہے ۔ اقلیتی بہبود کا قلمدان ارون چترویدی کے ذمہ ہے جبکہ وقف امور کے انچارج وزیر راجندر سنگھ راٹھور ہیں۔اس طرح اقلیتی امور کی ذمہ داری عملاً تین وزراء کو دی گئی تا کہ اقلیتوں کی ترقی بہتر طور پر ممکن ہوسکے ۔