نئی دہلی ۔ 9 جون (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کی ایک عدالت نے اترکھنڈ کے 17 پولیس عہدیداروں کو فرضی انکاونٹر میں ملوث ہونے کا قصور وار پایا اور انہیں سزائے عمر قید سنائی۔ 2009 میں دہرہ دون کے جنگل میں ایک 22 سالہ ایم بی اے گریجویٹ نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ خصوصی سی بی آئی جج جے پی ایس ملک نے تمام پولیس عہدیداروں کو فرضی انکاونٹر کا ملزم قرار دے کر سزائے عمر قید سنائی۔ غازی آباد کے ساکن 22 سالہ رنبیر سنگھ کو پہلے اغوا کیا گیا بعدازاں اس کا فرضی انکاونٹر کردیا گیا جو ملازمت کے سلسلہ میں دہرہ دون گیا تھا۔ علاوہ ازیں جج نے چھ پولیس اہلکار سب انسپکٹرس سنتوش کمار جیسوال، گوپال دت بھٹ، راجیش بشٹ، نیرج کمار، نتن کمار چوہان، چندر موہن سنگھ راوت اور کانسٹیبل اجیت سنگھ پر 50,000 روپئے فی کس جرمانہ عائد کیا جبکہ رنبیر سنگھ کے اغوا اور فرضی انکاونٹر کی سازش رچنے والے دیگر عہدیداروں پر 20,000 روپئے جرمانہ عائد کیا گیا۔ عدالت نے یہ ہدایت بھی کی جرمانے کی مجموعی رقم کو رنبیر سنگھ کے ارکان خاندان کو بطور معاوضہ ادا کیا جائے۔ رنبیر سنگھ نے میرٹھ یونیورسٹی ایم بی اے پاس کیا تھا۔ دوسری طرف رنبیر سنگھ کے ارکان خاندان جو اس وقت عدالت میں موجود تھے، نے عدالت کے فیصلہ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ عدالت عالیہ سے رجوع ہونگے۔ پولیس اہلکار جسپال سنگھ گو سین کو بھی عدالت نے دو سال کی سزائے قید سنائی ہے جس نے ایک شخص کو سزا سے بچانے ایک دیگر شخص پر غلط الزام عائد کرکے پھنسا دیا تھا۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران چونکہ گوسین دو سال تک محروس تھا لہٰذا اسے اب جیل نہیں بھیجا جائیگا۔ البتہ گوسین کو عدالت نے 50,000 روپئے کا شخصی مچلکہ داخل کرنے کی ہدایت کی ۔