ابو سالم کی ’’ٹرین والی شادی‘‘ کی تحقیقات

نئی دہلی 26 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی پولیس کی ایک ٹیم نے آج گینگسٹر ابو سالم کی شادی کے سلسلہ میں تحقیقات کیلئے پٹیالہ ہاؤس عدالت کا دورہ کیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے میڈیا میں یہ خبریں گشت کررہی ہیں کہ ابو سالم نے پولیس کی موجودگی میں چلتی ٹرین میں اُس وقت شادی کرلی جب اُسے لکھنو کی ایک عدالت میں پیش کرنے کے لئے بذریعہ ٹرین وہاں لیجایا جارہا تھا۔ ممبئی پولیس ٹیم نے اُن پولیس اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی جنھیں وہاں تعینات کیا گیا تھا جہاں ابو سالم کو ٹھہرایا گیا تھا اور جہاں سے وہ عدالت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ لاک اپ عہدیداروں کے علاوہ ممبئی پولیس نے ایڈوکیٹ ایم ایس خان سے بھی پوچھ گچھ کی جو عدالتی معاملات میں ابو سالم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پولیس نے اُن سے شادی کی تمام تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن مسٹر خان نے بتایا کہ اُنھیں ابو سالم کی ’’ٹرین والی شادی‘‘ سے متعلق کوئی علم نہیں ہے کیونکہ سالم نے اُنھیں کچھ بھی نہیں بتایا۔ ذرائع کے مطابق پولیس ٹیم کل لکھنو کا دورہ کرے گی تاکہ اس معاملہ کی مزید تحقیقات کی جاسکے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک اُنھیں ایسی کوئی ٹھوس معلومات حاصل نہیں ہوئی ہیں جس کی بنیاد پر میڈیا کی اُن رپورٹس کو صحیح قرار دیا جاسکے جہاں یہ شور شرابہ کیا جارہا ہے کہ ابو سالم نے چلتی ٹرین میں بذریعہ فون ایجاب و قبول کیا۔

مظفرنگر فسادات :تین ملزمین کی درخواست ضمانت مسترد
مظفرنگر ۔ 26 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) مقامی عدالت نے مظفرنگر فسادات کے دوران ایک شخص کو ہلاک کرنے کی تین ملزمین کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ ڈسٹرکٹ سیشن جج وجئے لکشمی نے ملزمین کپل، سمت اور نیتو کی درخواست ضمانت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمہ میں انہیں ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ مظفرنگر میں 9 ستمبر 2013ء کو ایک شخص رؤف الدین ہلاک اور ان کے رشتہ دار بھائی ارشد اس وقت شدید زخمی ہوگئے جب مبینہ طور پر فسادیوں نے ان پر حملہ کردیا۔ وہ موٹر بائیک پر جارہے تھے اور انہوں نے مکند پور گاؤں کے قریب پناہ لی تھی۔ مظفرنگر اور اطراف و اکناف کے علاقوں میں گذشتہ سال فسادات میں 60 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوگئے۔