ابن خلدون کو ماہر سماجیات کے طور پر نظر انداز کیا گیا

اردو یونیورسٹی میں قومی سمینار، ڈاکٹر اسلم پرویز، پروفیسر کلام کے خطاب
حیدر آباد، 14؍مارچ (پریس نوٹ) شعبۂ سماجیات، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں دو روزہ قومی سمپوزیم و سمینار کا اہتمام کیا جارہا ہے جس میں چودھویں صدی کے ممتاز مسلم اسکالر ابن خلدون کی علم سماجیات کے فروغ میں اولین خدمات کی بازیافت کی جارہی ہے۔ اس سمینار کو انڈین کونسل فار سوشیل سائنس ریسرچ، دہلی کا تعاون حاصل ہے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ تاریخ کی اس عظیم ہستی پر اس کے عربی میں موجود اصل متن کے ذریعہ کام ہونا چاہیے نہ کہ انگریزی میں موجود ترجمہ سے۔ ضرورت پڑنے پر شعبۂ عربی، اردو یونیورسٹی کے اساتذہ و اسکالرس کی خدمات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ممتاز ماہر سماجیات پروفیسر ایم اے کلام، ڈین، ایڈمنسٹریشن اینڈ ریگولیٹری افیئرس، کریا یونیورسٹی، سری سٹی، آندھرا پردیش نے کہا کہ ابن خلدون کا فلسفہ انسان کی زندگی،اس کی پیدائش سے لے کر موت تک کا احاطہ کرتا ہے۔ اسی طرح وہ انسانی سماج پر غور کرتا ہے۔ سماج کی پیدائش ہوتی ہے، وہ بڑھتا ہے، قوی ہوتا ہے (جسے تہذیب یافتہ کہا جاتا ہے) اور پھر اس کی موت ہوجاتی ہے۔ پروفیسر ونود جیرتھ، (ریٹائرڈ) شعبۂ سماجیات، یونیورسٹی آف حیدرآباد نے کہا کہ ابن خلدون پر کام کرنے سے قبل اس کا پس منظر جاننا ضروری ہے۔ اصل متن تک رسائی نہ ہونے کے باعث ابن خلدون پر کوئی بڑا کام نہیں ہوا۔ ابن خلدون کے وطن تیونس کا 2012 میں انہوں نے دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے دیکھا کہ فکر و اظہار کی آزادی پر پہرہ لگادیا گیا۔ یہ بات ہمارے ذہنوں میں بیٹھی ہوئی ہے کہ تمام ترقی ، ایجادات مغربی اقوام کے طفیل ہوئی۔ اہل علم کے پس منظر سے بھی واقفیت ضروری ہے۔ پس منظر، تناظر، مقام کو جانے بغیر صحیح تجزیہ ممکن نہیں ہے۔ پروفیسر پی ایچ محمد، صدر شعبۂ سماجیات نے سمینار کے موضوع کے بارے میں بتایا کہ سماجیات کا جدید تصور 1920 میں آیا۔ لیکن ابن خلدون نے 600 سال پہلے اس کی بنیاد ڈال دی تھی۔ ڈاکٹر سہید، اسسٹنٹ پروفیسر سماجیات نے کارروائی چلائی۔ ڈاکٹر احتشام نے شکریہ ادا کیا۔