ناگپور 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )جموں و کشمیر میں دستور کے دفعہ 370 کے بارے میں اپنے اٹل موقف کا اظہار کرتے ہوئے آر ایس ایس نے آج اس ریاست میں کامیابی کو ’’انوکھا تجربہ ‘‘قرار دیا۔ جموں و کشمیر میں بی جے پی نے پہلی بار ٹی ڈی پی کے ساتھ مخلوط حکومت قائم کی ہیں۔ آر ایس ایس نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان اختلافات صرف ’’تکلیف دہ مسائل ‘‘کے بارے میں ہیں۔ بی جے پی کے نظریہ ساز سرپرست نے واضح کردیا کہ بھگوا پارٹی نے دستور کے آرٹیکل 370 کے حساس مسئلہ کو بالائے طاق رکھ دیا ہے تا کہ پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کیا جاسکے تاہم آر ایس ایس کا موقف تبدیل نہیں ہوا ۔ آر ایس ایس اس مسئلہ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ صورتحال بہتر بنے لیکن صورتحال بہتر نہیں ہوئی ۔ آر ایس ایس کے جوائنٹ جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے پریس کانفرنس میں تین روزہ ذہن سازی اجلاس ’اکھل بھارتیہ پریتی ندھی سبھا‘ کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ وہ دستور کے دفعہ 370 پر مصر ہے جو جموں و کشمیر کو خصوصی موقف عطا کی ہے، یہ دفعہ جاری رہے گی۔ آر ایس ایس قائد نے کہا کہ سنگھ چاہتا ہے کہ ریاست میں یہ نیا تجربہ کامیاب ہوجائے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قوم پرست پارٹی اس مقام تک نہیں پہنچی تھی انہوں نے کہا کہ یہ تمام تکلیف دہ مسائل ہیں، ہمیں چاہئے کہ اس تجربہ کی کامیابی کیلئے وقت اور موقع فراہم کریں ۔ تاہم انہوں نے ریاست میں پیش آنے والے واقعات پر بشمول علحدگی پسند قائد مسرت عالم کی مفتی محمد سعید حکومت کی جانب سے رہائی پر اندیشے ظاہر کئے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ دو پارٹیوں کا باہمی مسئلہ ہے۔ مخلوط حکومت میں قومی احساسات سے وابستگی برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔