ریاست کے لیے خصوصی پیاکیج کا اعلان کرنے میں مرکزی حکومت ناکام ، کے راما کرشنا کا بیان
وجئے واڑہ ۔ 2 ۔ مارچ : ( پی ٹی آئی ) : سی پی آئی نے آج آندھرا پردیش کے تئیں مرکز کے بے پروائی کے رویہ پر تلگودیشم پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ سے جو مرکزی کابینہ کا حصہ ہیں استعفیٰ کا مطالبہ کیا ۔ سی پی آئی آندھرا پردیش کے سکریٹری کے راما کرشنا نے یہاں میڈیا کے نمائندوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو آندھرا پردیش کے لیے ایک خصوصی پیاکیج کا اعلان کرنے اور ریاست کو خصوصی زمرہ کا موقف دینے میں مرکزی حکومت کی ناکامی کے لیے اس کے خلاف ایک کل جماعتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے دہلی جاکر اپنااحتجاج درج کروائیں ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو دن سے تلگو دیشم اور بی جے پی دونوں جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے پر تنقید کررہے ہیں لیکن تلگو دیشم پارٹی نے یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ این ڈی اے حکومت سے دوری اختیار کرے گی ۔ ان کے مطابق ریاست کے عوام یہ محسوس کررہے ہیں کہ حکمران تلگو دیشم پارٹی مسائل پر انہیں فریب دے رہی ہے ۔ سی پی آئی قائد نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اے پی تنظیم جدید بل کی منظوری کے وقت وینکیا نائیڈو نے ریاست کے لیے یو پی اے کے وعدوں کی حمایت کی تھی لیکن اب وہ اس پر خاموش ہیں ۔ راما کرشنا نے انتباہ دیا کہ ان کی پارٹی دیگر بائیں بازو جماعتوں کے ساتھ ریاست آندھرا پردیش کے تئیں مودی حکومت کی بے اعتنائی کے خلاف ایک عوامی تحریک شروع کرے گی ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ مرکز کی پالیسیاں صرف کارپوریٹس کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ سی پی آئی کی ایک سہ روزہ کانفرنس منگل سے وجئے واڑہ میں منعقد ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آئی کی 25 ویں آندھرا پردیش اسٹیٹ کانفرنس یہاں کل سے منعقد ہوگی ۔ اس کانفرنس کے پہلے دن ایک جلسہ عام منعقد ہوگا ۔ جس سے سی پی آئی کے نیشنل جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی اور ممبر سنٹرل کمیٹی ڈاکٹر کے نارائنا اور دوسرے مخاطب کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چہارشنبہ اور جمعرات کو ڈیلیگیٹس سیشن کے دوران تقریبا دس قرار دادوں کو منظور کیا جائے گا ۔۔