آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ نہ دینے کا مطالبہ

عثمانیہ یونیورسٹی اراضی پر غریبوں کے لئے مکانات کی تعمیر کی مخالفت
حیدرآباد /19 مئی (سیاست نیوز) حلقہ لوک سبھا نلگنڈہ کے کانگریس رکن پارلیمنٹ جی سکھیندر ریڈی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا موقف نہ دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا استدلال ہے کہ اگر آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا گیا تو تلنگانہ کی تمام بڑی بڑی کمپنیاں آندھرا پردیش منتقل ہو جائیں گی اور سرمایہ کاری بھی آندھرا پردیش میں ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ سوائے حیدرآباد کے آندھرا پردیش کے تمام اضلاع، تلنگانہ کے اضلاع سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں، جہاں انفراسٹرکچر کے علاوہ تمام بنیادی سہولتیں دستیاب ہیں، لہذا ایسی صورت میں آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا گیا تو تلنگانہ کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔ انھوں نے عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضی پر غریب عوام کیلئے مکانات تعمیر کرنے کی تجویز کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی غریب عوام کیلئے مکانات کی تعمیر کے خلاف نہیں ہے، لیکن اس کیلئے عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضی کا استعمال نہ کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی ملک کا باوقار تعلیمی ادارہ ہے، پہلے ہی یونیورسٹی کی کئی ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضے ہوچکے ہیں اور اب بچی کھچی اراضی پر چیف منسٹر تلنگانہ کی نظر ہے۔ انھوں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ اپنی اس تجویز سے دست برداری اختیار کرتے ہوئے غریب عوام کیلئے متبادل اراضی کا انتظام کریں۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو دہلی میں مرکزی وزراء سے ملاقات کرتے ہوئے آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔