آندھرا پردیش کو خصوصی درجہ پر احتجاج سیاسی مفاد پرستی پر مبنی

تلنگانہ کو بھی خصوصی ریاست کا درجہ دیا جائے ،ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 26 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ کڈیم سری ہری نے آندھرا پردیش کے خصوصی درجہ کے لیے احتجاج پر متنازعہ ریمارکس کرتے ہوئے اس کو سیاسی مفاد پرستی کے لیے کیے جانے والا احتجاج قرار دیا ۔ اگر آندھرا کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا جارہا ہے تو تلنگانہ کو بھی خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مرکز سے مطالبہ کیا ۔ دہلی میں ڈپٹی چیف منسٹر نے مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر سے ملاقات کی اور انہیں ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے تقسیم ریاست بل کے وعدے کے مطابق تلنگانہ میں قبائلی یونیورسٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ گذشتہ 4 سال سے ٹی آر ایس حکومت تقسیم ریاست بل میں تلنگانہ کے لیے جو وعدے کئے گئے ہیں اس پر عمل آوری کے لیے مرکز پر دباؤ بنا رہی ہے ۔ یہاں تک کے تلنگانہ حکومت کی جانب سے قبائلی یونیورسٹی کے لیے اراضی فراہم کرنے کا پیشکش کرنے کے باوجود مرکز نے ابھی تک کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ آج مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر سے ملاقات کرتے ہوئے مختلف امور پر گفتگو کی گئی ہے ۔ حیدرآباد میں آئی آئی ایم قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے ۔ جس پر مرکزی حکومت خاموش ہے ساتھ ہی ریاست میں اضلاع کی تنظیم جدید کے بعد 21 نئے اضلاع قائم ہوئے ہیں ۔ ہر ایک نئے ضلع میں نودیہ کندریا تعلیمی ادارہ قائم کرنے کی نمائندگی کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ کریم نگر میں آئی آئی آئی ٹی قائم کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے ۔ مرکزی حکومت نمائندگی کرتے وقت مثبت ردعمل کا اظہار کررہی ہے ۔ مگر ان یادداشتوں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ پارلیمنٹ میں تلگو دیشم کے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے آندھرا کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے لیے کیے جانے والے احتجاج پر پوچھے گئے سوال کا متنازعہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مفاد پرستی کے لیے احتجاج کرنے کا الزام عائد کیا ۔ کڈیم سری ہری نے کہا کہ آندھرا کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا جاتا ہے تو ہمیں کوئی دشواری نہیں ہے تاہم اگر آندھرا کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا جارہا ہے تو تلنگانہ کو بھی خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مرکز سے مطالبہ کیا ۔۔