شیوا راما کرشنن کمیٹی محض ماہرین و تکنیکی پیانل، مقام کے تعین کا اختیار نہیں
وجئے واڑہ 11 مئی ( پی ٹی آئی ) آندھرا پردیش کی تقسیم کے ذریعہ نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد سیما آندھرا پر مشتمل باقی رہ جانے والی ریاست کیلئے نئے صدر مقام کے قیام سے متعلق مختلف امکانات کا جائزہ لینے کیلئے مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے تشکیل شدہ شیوا راما کرشنن کمیٹی کسی ایک مخصوص مقام کی تجویز پیش نہیں کرے گی۔ اس کمیٹی کے رکن اور قومی ادارہ برائے پبلک فینانس پالیسی کے ڈائرکٹر رتن رے نے یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمیٹی مختلف مقامات کے بارے میں تکنیکی اور قابل عمل امکانات پر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ مسٹر رے نے کہا کہ یہ کمیٹی محض ایک تکنیکی ماہرین کا پیانل ہے جس کو ریاست کی نئی دارالحکومت کے مقام کو قطعیت دینے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے ۔ شیوا راما کرشنن کمیٹی آندھرا پردیش کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے عوامی نظریات کی قلمبندی کے بعد 31 اگست تک مرکزی وزارت داخلہ کو اپنی رپورٹ پیش کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی متعلقہ اضلاع اور شہروں میں دستیاب وسائل کے بارے میں سرکاری محکمہ جات سے معلومات حاصل کررہی ہے ۔ ضلع کرشنا کے کلکٹر ایم رگھو نندن راو نے آندھرا پردیش کے نئے دارالحکومت کیلئے اپنے ضلع میں دستیاب وسائل کے بارے میں اس کمیٹی کو ایک جامع رپورٹ پیش کی۔ بعدازاں کمیٹی کے رکن نے عوام سے نمائندگیاں وصول کیا۔