آندھرا پردیش صدر مقام کیلئے جبراً حصول اراضی کے خلاف انتباہ

حکومت باز نہ آنے پر بھوک ہڑتال کی دھمکی، پون کلیان کا گنٹور میں خطاب
حیدرآباد /5 مارچ (سیاست نیوز) فلم اسٹار و جن سینا پارٹی کے صدر پون کلیان نے کہا کہ انھوں نے تلگودیشم اور بی جے پی کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا تھا، اگر دونوں حکومتوں کی جانب سے عوام دشمن پالیسیوں پر عمل کیا گیا تو وہ بھی برابر کے ذمہ دار ہوں گے۔ انھوں نے حکومت آندھرا پردیش کو انتباہ دیا کہ اگر وہ نئے دارالحکومت کے لئے کسانوں سے جبراً اراضی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی تو وہ ناقابل برداشت ہوگا۔ انھوں نے حکومت کے اس اقدام کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا انتبادہ دیا۔ انھوں نے آج یہاں گنٹور میں کسانوں سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی۔ واضح رہے کہ تلگودیشم حکومت کی جانب سے دارالحکومت کے قیام کے لئے کسانوں سے زبردستی اراضی حاصل کرنے کے خلاف پون کلیان نے ان علاقوں کا دورہ کیا، جہاں کے کسان حکومت کو اراضی دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انھوں نے کئی مقامات پر کسانوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کی اور حکومت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالیشان راجدھانی کے حق میں ہیں، تاہم عوام کے آنسوؤں سے تعمیر ہونے والی راجدھانی کے خلاف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تمام عصری سہولتوں سے لیس راجدھانی بنانے کے لئے 15 ہزار ایکڑ اراضی بہت ہے، اس کے باوجود حکومت 33 ہزار ایکڑ اراضی حاصل کرنا چاہتی ہے، جس کے وہ خلاف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کسی سیاسی مقصد سے یہاں نہیں آئے اور نہ ہی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، فلموں کے ذریعہ ملنے والا عوام کا پیار ہمارے لئے کافی ہے۔ وہ یہاں عوامی مسائل کو جاننے اور کسانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے آئے ہیں۔ انھوں نے اراضی دینے کے لئے وزراء کمیٹی کی جانب سے کسانوں کو نوٹس دینے کی سخت مخالفت کی اور اس سے دست برداری کا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں عہدہ داروں کو کسانوں سے تعاون کا مشورہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو سے بات چیت کریں گے، لہذا بات چیت کے بعد ہی اراضی کے حصول کے لئے کوئی قدم اٹھایا جائے۔ انھوں نے ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی اور جگن موہن ریڈی کو بالواسطہ تنقید کا نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ عام انتخابات سے قبل پون کلیان نے جن سینا پارٹی تشکیل دی تھی، لیکن انتخابات میں حصہ لینے کی بجائے تلگودیشم اور بی جے پی کی تائید میں مہم چلائی تھی۔ انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے عام بجٹ میں آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا موقف اور اسپیشل پیکیج نہ دینے پر سخت اعتراض کیا۔